تیل و گیس کمپنیاں سماجی ذمہ داری کے تحت تیل و گیس کی تلاش والے علاقوں میں فلاحی کام کرتی ہیں ،ْ وفاقی وزیر شیخ آفتاب

ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی گئی ہے‘ جوائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے دو ہفتوں کی تاخیر ہوئی تھی ،ْانوشہ رحمن

جمعہ مئی 19:31

تیل و گیس کمپنیاں سماجی ذمہ داری کے تحت تیل و گیس کی تلاش والے علاقوں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) قومی اسمبلی کوبتایا گیا ہے کہ تیل و گیس کمپنیاں سماجی ذمہ داری کے تحت تیل و گیس کی تلاش والے علاقوں میں فلاحی کام کرتی ہیں ،ْٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی گئی ہے‘ جوائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے دو ہفتوں کی تاخیر ہوئی تھی۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں ضلع سانگھڑ میں تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے فلاحی کاموں اور ملازمتوں کے حوالے سے جمال الدین کے توجہ مبذول نوٹس پر وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ پٹرولیم کمپنیاں جس علاقے میں کام کرتی ہیں وہاں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت کام کرتی ہیں اور مقامی لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام فنڈز متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو دیئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ایک کمیٹی ہوتی ہے‘ کمیٹی میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کی مشاورت سے ترقیاتی کاموں کے فیصلے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سانگھڑ میں کمپنیوں کی جانب سے اس مد میں جتنا پیسہ دیا گیا ہے وہ متعلقہ ایم این اے کو دے دیا جائے گا۔ ملازمتیں بھی دی گئی ہیں۔

سید جمال الدین نے کہا کہ سانگھڑ کے وفد کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت کام کریں اور ملازمتیں مقامی افراد کو دی جائیں۔ شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ملازمتوں کے حوالے سے کمپنی کی اپنی پالیسی ہوتی ہے جس کو فالو کیا جاتا ہے تاہم چھوٹے درجے کی ملازمتوں میں مقامی افراد کا خیال رکھا جاتا ہے۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ متعلقہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنر کو فراہم کردہ فنڈز کے بارے میں بتایا جائے جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ایشوز ہیں‘ آسامیاں کم اور بیروزگاری زیادہ ہے۔

اجلاس کے دور ان شیخ صلاح الدین‘ سید وسیم حسین‘ سید رضا عابدی‘ ڈاکٹر نگہت شکیل خان اور عبدالوسیم کے توجہ مبذول نوٹس پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ایوان کو بتایا کہ جوائنٹ سیکرٹری ایم ڈی ٹی آئی پی ہوتا ہے۔ جائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے دو ہفتوں کا گیس آیا تاہم تنخواہیں 17 مئی سے ٹرانسفر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے یہ ایشو سامنے آیا ہے ورنہ ہر ماہ کے آغاز میں تنخواہ وقت پر دی جاتی ہے۔

شیخ صلاح الدین کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے پاس وزارت سے جو معلومات آئی ہیں کہ تنخواہیں 17 مئی کو ملازمین کے اکائونٹس میں منتقل ہوئی ہیں۔ تنخواہ میں اضافہ سے متعلق ہم نے وزارت خزانہ سے رابطہ کیا تھا۔ 2015-16ء کو تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ بھی ملازمین کو دلایا گیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹی آئی پی ایسا ادارہ ہے جس نے خود کو کھا لیا ہے۔

ملازمین نے اس کی تباہی میں کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے سخت ایکشن لیا‘ ٹی آئی پی سے بجلی کا کنکشن ناجائز طریقے سے ایک پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹی کو دیا گیا۔زمین کی چائنا کٹنگ کی گئی اور زمین پر قبضہ کیا۔ ایک ہی خاندان سے کئی کئی افراد ملازم بھرتی ہوتے ہیں۔ اب صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ادارے کے حالات کو ٹھیک کرنے میں دو سال لگے ہیں۔

اراکین اس ایشو کو صرف ایک پہلو سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آئی پی کی پی ٹی سی ایل کے ساتھ نجکاری نہیں ہوئی تھی۔اجلاس کے دور ان حاجی غلام احمد بلور جیسے ہی نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرنے لگے تو اس دوران پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی نسیمہ حفیظ پانیزئی نے کورم کی نشاندہی کردی۔ گنتی کرنے پر ارکان کی مطلوبہ تعداد نہ ہونے پر سپیکر سردار ایاز صادق نے اجلاس کورم پورا ہونے تک معطل کردیا۔نسیمہ حفیظ پانیزئی کی کورم کی نشاندہی کے بعد اجلاس کچھ دیر بعد دوبارہ شروع ہوا تو اجلاس کی صدر نشیں آسیہ ناصر نے گنتی کا حکم دیا۔ گنتی کرنے پر ارکان کی مطلوبہ تعداد نے ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔