حکومت پنجاب کی طرف سے سرگودھا کو کم کوٹہ دینے پر فلور ملز مالکان برہم

ہفتہ مئی 20:56

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) حکومت پنجاب کی طرف سے سرگودھا کو کم کوٹہ دینے پر فلور ملز مالکان برہم ، رمضان بازاروں کو آٹا سپلائی بند کرنے کی دھمکی دیدی ۔تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی طرف سے صوبہ بھر میں رمضان بازاروں میں آٹا کی سپلائی کے لیے 11ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تھی اور تمام فلور ملز مالکان کو پابند بنا دیا کہ وہ رمضان المبارک میں اپنا آٹے کا گٹو استعمال کرتے ہوئے بازاروں میں فروخت نہیں کرسکیں گے حکومت پنجاب کی طرف سے دی گئی سبسڈی آبادی کی بجائے پسند نا پسند کی بنیاد پر دی گئی فلور ملزم مالکان کا کہنا ہے کہ گندم کا کوٹہ آبادی کی بنیاد پر فراہم کیا جانا چاہیے مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ پسند نا پسند کی بنیاد پر آٹے کا کوٹہ فراہم کیا جارہا ہے جس سے فلور ملز مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے حکومت کی طرف سے ضلع اٹک جوکہ آبادی کے لحاظ سے سرگودھا سے بہت چھوٹا ہے اس کو 15093 ٹن کوٹہ فراہم کیا گیا ہے جبکہ سرگودھا کو 5109 ٹن گندم فراہم کی گئی جو سراسر ظلم کے مترادف ہے اسی طرح شیخو پورہ جوکہ فیصل آباد کے مقابلہ میں انتہائی چھوٹا ضلع ہے شیخو پورہ کو 18840 ٹن جبکہ فیصل آباد کو 13260 ٹن گندم فراہم کی گئی ہے ملز مالکان نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے 11 ارب روپے کے آٹے کی سبسڈی پسند نا پسند کی بنیاد پر فلور ملز مالکان کو فراہم کی ہیں جس کی وجہ سے کم آبادی والے اضلاع کی فلور ملز مالکان سبسڈی پر حاصل کی جانیوالی گندم کا آٹا افغانستان اور دیگر صوبوں کو مہنگے داموں فروخت کررہے ہیں جبکہ شہر بھر میں سبز رنگ کے آٹے والے گٹو کی فروخت کے علاوہ دیگر گٹوئوں کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے حکومت کی طرف سے غیر منصفانہ اقدام پر فلور ملز مالکان نے کوٹہ نہ بڑھانے پر رمضان بازاروں کو آٹے کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے فلور ملزایسوسی ایشن کے صدر ملک محمد حفیظ کا کہنا ہے حکومت نے گزشتہ سالوں کے ریکارڈ حاصل کرکے اس حساب سے سبسڈی دی تاہم اگر مزید سبسڈائزڈ گندم کی ضرورت ہوگی تو مزید گندم حاصل کر لیا جائیگا ۔

(جاری ہے)

جس کے لیے حکومت کو تحریری مراسلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے