چھوٹالاہور،سابقہ عداوت پر مخالفین نے اندھادھندفائرنگ کرکے دوافرادکو قتل کردیا

ہفتہ مئی 21:48

چھوٹالاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) پولیس سٹیشن تورڈھیرکے حدودمیں سابقہ عداوت پر مخالفین نے اندھادھندفائرنگ کرکے دوافراد بھون ڈالے، مرنے والوں میں 8 سالہ حسنین اور28 سالہ جنید شامل ہیں، گاؤںجبرکے سینکڑوں افراد نے نعشیں احتجاجاًلے جاتے ہوئے جی ٹی روڈجہانگیرہ کے وسط میںرکھ دئیے ،3 گھنٹے جی ٹی روڈ بلاک رکھنے سے دونوںجانب کئی کلومیٹرتک مسافرگاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں،ہزاروں روزہ دارمسافر شدیدگرمی سے نڈھال بڑی تکلیف سے دوچاررہیں، مظاہرین پولیس تھانہ تورڈھیر،تحصیل ناظم لاہوراورپی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خلاف شدیدنعرہ بازی کرتے رہیں،ڈی ایس پی صوابی اظہارشاہ خان، ڈی ایس پی اکوڑہ خٹک اعجازخان شیرپاؤ نے مظاہرین سے ملزمان کی گرفتاری کیلئے 3 دن کی مہلت مانگ کر3 گھنٹے کی بندش کے بعد روڈ کھولنے اورمظاہرین کومنتشرکرنے میںکامیاب ہوئے۔

(جاری ہے)

واقعات کے مطابق ہفتہ کے روزتقریباً28 سالہ جنید ولدگل محمد اپنے ماموںزاد 8 سالہ حسنین ولدوحیدخان کے ہمراہ اپنی سوزوکی پک اپ میں سی این جی ڈالوانے کے بعد جہانگیرہ کی جانب سے براستہ کنڈپارک الہ ڈھیرسے ہوکر اپنے گاؤںجبرجارہے تھے کہ نوے نہرکے مقام پر مخالف فریق نے اُن پر اندھادھندفائرنگ کھول دی جسکے نتیجہ میں جنیداورحسنین فائرنگ کی بوچھاڑ سے بری طرح موقع پرجاںبحق ہوگئے یاد رہے کہ اراضی کے تنازعہ پرگاؤں جبرکے لوگوں نے فائرنگ کرکے ملزمان فریق کے عبدالولی ولدمحمد علی خان ساکن تورڈھیرکو 2 ساتھیوں کے ہمراہ قتل کیا تھا جسکے بعد مقتول کے بیٹوں نے گاؤں جبرکے ایک عالم دین کو بھی کچھ ہفتوں پہلے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ ایک بارپھرموقع ملتے ہی ایک فریق نے دوسرے فریق کے دو افرادکو نگل لیا پولیس سے مذاکرات کے دوران مقتول کے والد گل محمد اوردیگرمظاہرین نے ملزمان ظہور،کبیر،منظورپسران عبدالولی اورجمال ولد تاج خان کی فوری گرفتاری کامطالبہ کیا جس پر ڈی ایس پیز نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے 3 یوم کی مہلت مانگی۔