کرکٹ کی تاریخ کاایک اوربڑا اسکینڈ ل منظر عام پر،سری لنکا میں فکسنگ کی نئی جہت وکٹ فکسنگ کا انکشاف

کھلاڑی نہیں گرائونڈ عملہ ملوث ہوتا ہے، بھارت اورسری لنکامابین2017 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں وکٹ فکس کی گئی رپورٹ کے مکمل طور پر منظر عام پر آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کی جائے گی،آئی سی سی

ہفتہ مئی 23:05

کرکٹ کی تاریخ کاایک اوربڑا اسکینڈ ل منظر عام پر،سری لنکا میں فکسنگ ..
دوحہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) کرکٹ کی تاریخ میں فکسنگ کا ایک اور اسکینڈ ل منظر عام پر آ گیا، سری لنکا میں فکسنگ کی نئی جہت وکٹ فکسنگ کا انکشاف ہوا ہے، وکٹ فکسنگ میں کھلاڑی نہیں گرائونڈ عملہ ملوث ہوتا ہے، بھارت اورسری لنکامابین2017 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں وکٹ کوفکس کیا گیا تھا۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق میچ فکسنگ، اسپاٹ فکسنگ اور فینسی فکسنگ کے بعد اب کرکٹ کے میدان سے کرپشن کی نئی قسم وکٹ فکسنگ کا انکشاف ہوا ہے جس میں سری لنکا کا گرانڈ اسٹاف ملوث پایا گیا ہے۔

برطانوی اخبار عرب ٹی وی الجزیرہ کے حوالے سے ایک خفیہ آپریشن کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس آپریشن نے سری لنکا میں کرکٹ میچ فکسنگ کی نئی سازش بے نقاب کی ہے جس میں کوئی بین الاقوامی کھلاڑی نہیں بلکہ کرکٹ گرانڈ کا عملہ ملوث ہے۔

(جاری ہے)

الجزیرہ ٹی وی سے تعلق رکھنے والا ایک صحافی بزنس مین کے روپ میں گال اسٹیڈیم کے اسسٹنٹ مینیجرتھرانگا اندیکا اورسابق بھارتی فرسٹ کلاس کرکٹررابن مورس سے ملاقات کی اور ملاقات کے دوران ہونے والی ساری گفتگو کو خفیہ کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کیا۔

عرب ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ صحافی فکسنگ سے متعلق تھارنگا اندیکا سے بات کررہا ہے۔ صحافی اس سے اسی اسٹیڈیم میں 6 نومبرسے انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان شیڈول ٹیسٹ میچ کو فکس کرنے کی بات کرتا ہے اورپوچھتا ہے کہ کیا یہ میچ 5 کے بجائے 4 دن میں ختم ہوسکتا ہے، جس پر تھارنگا اندیکا نے جواب دیا، چاردن کیا، ڈھائی دن میں ہی ختم کردیں گے، پچ کو میچ سے 2 ہفتے قبل کھلا چھوڑدیں گے، پانی بھی نہیں لگائیں گے، ٹیسٹ میچ اس سے بھی جلد ختم کروادوں گا۔

ملاقات کے دوران تھارنگا نے دعوی کیا کہ بھارت اورسری لنکا کے درمیان اسی میدان میں 2017 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں بھی وکٹ کوفکس کیا گیا تھا۔ اس ٹیسٹ میں بھارت نے 6 سوسے زائد رنز بنائے تھے۔دوسری جانب انگلش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ فکسنگ کے متعلق رپورٹ سے آگاہ ہیں جب کہ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مکمل طور پر منظر عام پر آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کی جائے گی۔