سوئی سدرن گیس کمپنی نے پابندی کے باوجود 129 نئے گیس کنکشن دے دیئے

گیس کمپنی دادو شوگر مل سے کروڑوں وصول کرنے میں ناکام ، کمپنی میں کرپٹ افسران نے قبضہ جما کر ادارہ کو کنگال کر دیا

اتوار مئی 20:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) سوئی سدرن گیس کمپنی نے پابندی عائد کئے جانے کے باوجود 129 نئے گیس کنکشن فراہم کر دیئے ہیں جس کے نتیجہ میں کراچی اور حیدر آباد میں گیس لوڈشیڈنگ کا بحران پیدا کیا گیا تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے کرپٹ انتظامیہ نے پابندی کے باوجود 50 صنعتی یونٹس کو گیس کنکشن دیئے جبکہ 10 نئے سی این جی اسٹیشن کو گیس کنکشن دئے ہیں جبکہ 69 پاور کمپنیوں کو کنکشن دیئے گئے ہییں ۔

مجموعی طور پر 129 نئے گیس کنکشن دیئے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ نے بھاری مال کمار رکھا ہے اور کرپٹ افسران نے اپنے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ کیا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے 41 سی این جی اسٹیشن کے مالکان کو اضافی کمپریسر لگانے کی بھی اجات دے رکھی ہے جس سے شہری علاقوں میں گیس لوڈشیڈنگ اور گیس کا کم دباؤ کا بحران معمول کی بات ہے ۔

(جاری ہے)

41 سی این جی اسٹیشن میں سے 28 سی این جی اسٹیشن کراچی شہر میں ہیں ۔ 11 سی این جی اسٹیشن سندھ کے دیگر شہروں میں جبکہ 2 سی این جی اسٹیشن کوئٹہ میں واقع ہیں جن کے مالکان کو اضافی کمپریسر لگانے کی اجازت دی گئی ہے حالانکہ قانون کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے جس کی ابھی تک تحقیقات بھی مکمل نہیں ہو سکیں ۔ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی انتطامیہ دادو شوگر مل سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کے بقایا جات بھی وصول نہیں کر سکی ہے ۔ کروڑ روپے کی عدم ادائیگی کے باوجود شوگر مل کا نہ کنکشن منقطع کیا گیا ہے اور نہ ہی ریکوری ہوئی ہے اس سکینڈل میں بھی سوئی سدرن گیس کمپنی کے کرپٹ افسران ملوث ہیں ۔ ۔ -05-18/--47