مشرف نے اپنے دور میں پاکستان کے مضبوط اداروں کو کمزور کیا تھا ، مولانا محمد طیب طاہری

اتوار مئی 21:20

صوابی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) جماعت اشاعت التوحید والسنت کے مرکزی امیر مولانا محمد طیب طاہری نے کہا ہے کہ مشرف نے اپنے دور میں پاکستان کے مضبوط اداروں کو کمزور کیا تھا ، ملک میں امریکی خوشنودی کیلئے ایک سازش کے تحت دینی طبقوں کے خلاف پاک آرمی کو استعمال کرکے مدارس اور پاک آرمی کے مابین نفرتیں پیدا کیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالقرآن پنج پیر میں دورہ تفسیر قرآن کے موقع پر طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

مولانا محمد طیب طاہری نے کہا کہ ایم ایم اے والے کہتے ہیں کہ ایم ایم اے علماء کی ایک متحد پلیٹ فارم ہیں لیکن یہ لوگ مجھے ایم ایم اے میں کوئی ایک عالم دکھادے ، ایک جماعت کا سربراہ مرکز میں پانچ سال بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے جبکہ دوسری جماعت کا سربراہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ، یہ لوگ اسلام کے نام پر دین کو بدنام کررہے ہیں ،اُن کو اسلام سے کوئی سروکار نہیں بلکہ اُنہیںاقتدار سے مطلب ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فاٹا کی خیبرپختونخوا میں انضمام خوش آئند ہے ،جس سے صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان مزید مضبوط قوت بن جائے گا ، اور ملک میں امن اور خوشحالی آئے گی، مولانا فضل الرحمن فاٹا انضمام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنانا چاہیے ،مولانا صاحب چاہتے یہی ہے کہ پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ مشرف نے اپنے دور میں باجوڑ میں مدرسے پر حملہ کرکے بے گناہ معصوم بچوںکو شہید کیا جس سے دینی مدارس اور پاک فوج کے مابین نفرتیں پھیلی اور اس کے بعد ملک میں بدامنی شروع ہوئی اور آج تک امن قائم نہ ہوسکا ،مشرف نے پاکستان کے مضبوط اداروں کو کمزور اور غیر مستحکم کردیا ۔