اسد درانی کی طرح نواز شریف سے بھی سوالات ہونے چاہیے ،

ْجس کسی سے بھی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو اٴْس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ،ْ انٹرویو

منگل مئی 14:12

اسد درانی کی طرح نواز شریف سے بھی سوالات ہونے چاہیے ،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ جس طرح فوج نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو طلب کیا، اسی طرح پارلیمان کو بھی سابق وزیراعظم نواز شریف سے ممبئی حملوں سے متعلق حالیہ بیان کی وضاحت طلب کرنی چاہیے تھی۔ایک انٹرویومیں علی محمد خان نے کہا کہ جس کسی سے بھی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو اٴْس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ چاہے کوئی فوجی ہو یا عام سیاستدان، قومی سلامتی کے منافی بیانات دینے کا کسی کو اختیار نہیں اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے ہر صورتحال میں قانون کی گرفت میں لایا جائے۔انہوںنے کہا کہ فوج نے اپنے سابق آفیسر اسد درانی کو طلب کرکے ایک بات ثابت کردی کہ اس ادارے کے اصول بہت ہی واضح ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا کہ ایسے اصول پھر سیاسی محاذ پر کیوں نہیں ہوتے اور آخر کیوں پارلیمنٹ کو اتنا بے بس تصور کیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ اسد درانی کی اس کتاب کا اس وقت میں شائع ہونا کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے لیکن یہ معاملے فوج دیکھ رہی ہے تو لہذا وہ ہی فیصلہ کرے گی۔