نیب ریفرنس ،ْکیپٹن (ر) صفدر کا عدالت کے پوچھے گئے بیشتر سوالات سے اظہار لاتعلقی

واجد ضیاء کے پیش کردہ 12 جون 2012 کا خط میرے متعلق نہیں اور یہ خط فرد جرم قوانین کے مطابق تصدیق شدہ نہیں ،ْکیپٹن صفدر طارق شفیع سے 12 ملین درہم لے کر الثانی کو دینے کا سوال مجھ سے متعلق نہیں ،ْبیان ریکارڈ کروادیا نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف سینہ سپر رہوں گا ،ْ میرا نظریہ نواز شریف ہی ہے ، ماں کے تذکرہ پر آبدیدہ ہوگئے

بدھ مئی 14:18

نیب ریفرنس ،ْکیپٹن (ر) صفدر کا عدالت کے پوچھے گئے بیشتر سوالات سے اظہار ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات میں سے بیشتر کے جواب میں کہا ہے کہ یہ سوالات ان سے متعلق نہیں ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں، نامزد ملزمان نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی ،ْ کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

ایک روز قبل ہونے والی سماعت کے دوران کیپٹن (ر) صفدر نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 میں سے 80 سوالات کے جواب دیے تھے۔اس سے قبل ریفرنس میں نامزد سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز نے 128،128 سوالات کے جواب دئیے تھے۔

(جاری ہے)

بدھ کی سماعت کے دوران اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے ملزم کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ واجد ضیاء کے پیش کردہ 12 جون 2012 کا خط میرے متعلق نہیں اور یہ خط فرد جرم قوانین کے مطابق تصدیق شدہ نہیں۔

کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ موزیک فونسیکا کا خط بھی میرے متعلق نہیں، یہ خط پرائمری دستاویز نہیں جسے شہادت کے طور پر نہیں لیا جا سکتا اور خط کو شہادت کے طور پر قبول کرنا شفاف ٹرائل منافی ہوگا۔عدالتی سوال، واجد ضیاء نے کیپٹل ایف زیڈ ای سے متعلق سرٹیفکیٹ پیش کیا، کیا کہیں گی کا جواب دیتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ سرٹیفکیٹ مجھ سے متعلق نہیں اور نہ یہ فرد جرم سے متعلق ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ واجد ضیاء کے پیش کردہ اسکرین شاٹس اور جافزا کے فارم 9 کی کاپی مجھ سے متعلق نہیں۔اس موقع پر ملزم کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کا بہت سی چیزوں سے تعلق ہی نہیں اور بہت سی چیزیں ان کی شادی سے قبل کی ہیں۔کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ گلف اسٹیل ملز کے 25 فیصد شئرز کی فروخت میں کبھی فریق نہیں رہا اور ذاتی طور پر شامل نہ ہونے کے سبب ان معاملات کا کوئی ذاتی علم نہیں۔

ملزم کیپٹن (ر) صفدر نے عدالت کو بتایا کہ طارق شفیع سے 12 ملین درہم لے کر الثانی کو دینے کا سوال مجھ سے متعلق نہیں۔۔عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کے خلاف مقدمہ کیوں بنایا گیا جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے اردو میں لکھا ہوا اپنا بیان عدالت کو پڑھ کر سنایا۔جج محمد بشیر نے کیپٹن (ر) صفدر کا بیان خود لے کر دیکھا اور کہا کہ کہیں اس میں کوئی ایسی ویسی بات نہ ہو جس پر ملزم کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اس میں ایسا کچھ نہیں جس کے بعد کیپٹن (ر) صفدر نے اپنا بیان پڑھنا شروع کیا۔

ملزم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ مجھے نواز شریف کے ساتھ رشتے داری کی ہر دور میں قیمت ادا کرنی پڑی، کبھی جیلوں میں ڈالا گیا، جلاوطن کیا گیا اور ملازمت سے بھی برطرف کیا گیا۔کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ نواز شریف کو محب الوطنی اور عوام دوستی کی سزا دی جاتی رہی ہے اور اب بھی انہیں سزا دینے کا سلسلہ جاری ہے، نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف سینہ سپر رہوں گا ،ْ میرا نظریہ نواز شریف ہی ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ میری جلاوطنی کی وجہ سے میری والدہ کو ہارٹ اٹیک ہوا، بیٹے کی محبت میں میری والدہ دل گرفتہ ہوئیں، مجھ سے شکایت ہے میرے چارہ گروں کو، میں زخم چھپانے کی علامت نہیں رکھتا۔ماں کا تذکرہ کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر آبدیدہ ہوگئے اور انہوں نے اپنا بیان جاری رکھا۔