بلوچستان عوامی پارٹی آنیوالے الیکشن میں بھر پور حصہ لے گی اور بلوچستان میں حکومت بنائی گی ،میر جام کمال خان

جمعرات مئی 18:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ میر جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی آنیوالے الیکشن میں بھر پور حصہ لے گی اور بلوچستان میں حکومت بھی بنائی گی موسم کی شدت کے حوالے سے اگر الیکشن ایک دو ماہ کے لئے ملتوی کئے جاتے ہیں تو اس میں جمہوریت کیلئے کوئی نقصان نہیں بلکہ اس سے ووٹ کا ٹرن آئوٹ زیادہ ہوگا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس میں کیا اس موقع پر نصیر آباد سے میر سنجر خان جمالی، مراد شاہ عمرانی، وڈیرہ عبدالرزاق ، رئیس جان جمالی،، نے میر عبدالغفور لہڑی کی قیادت میں جبکہ میر اسماعیل بنگلزئی ، حاجی غلام فرید لہڑی اور دیگر نے بھی سینکڑوں افراد کے ساتھ پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا پریس کانفرنس میں پارٹی کے بانی سعید احمد ہاشمی ، میر اسماعیل لہڑی، ملک خدابخش لانگو، چوہدری شبیر احمد اور دیگر بھی موجود تھے میر جام کمال خان نے نئے شمولیت کرنیوالوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اگر چہ ایک نئی پارٹی ضرور لیکن اس میں شامل سیاسی آکابرین کا ملکی سیاست میں بڑا کردار رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بلوچستان میں سیاسی جماعتوں نے وہ کام نہیں کیا جس سے لوگوں کو فائد ہ ہوسکتا بلوچستان کے لوگ پسماندہ ہے اسلام آباد اور کوئٹہ کی سیاست مشکل ہے ہم نے اس جماعت کی بنیاد اس بناء پر رکھی کہ اس سے عام آدمی کے مسائل حل ہوسکیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی تبدیلی کے بعد سینیٹ کے چیئرمین کا بلوچستان سے لیا جانا بہت اہم کام تھے اور یہ تمام فیصلہ ہم نے بلوچستان میں از خود کئے اس سے قبل یہ فیصلے اسلام آباد اور مری میں ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے پاس سینیٹرز کی بھی اکثریت ہے اور ہم نے پارٹی کے عہدیداروں سمیت دیگر امور پر بھی از خود فیصلے کئے ہیں بلوچستان اسمبلی میں الیکشن کی ایک ماہ التواء سے متعلق منظور کی گئی قرار داد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے موسم میں بہت زیادہ فرق ہے یہاں اندرون صوبہ شدید گرمی میں ووٹر کو لائن میں لا کر کھڑا کرنا تکلیف دہ عمل ہوگا ہمیں جو ہے تمام معاملات کو سیاسی طور پر نہیں دیکھنا چاہئے گرائونڈ پوزیشن کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے ایک دو ماہ انتظار کے بعد اگرالیکشن ہوتے ہیں تو اس سے جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ بہتر موسم کے باعث ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ ہوگی ۔