پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ریکوری گزشتہ 5 سال کے دوران312 ارب روپے تک پہنچ گئی

جمعہ جون 12:59

اسلام آباد ۔ یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ریکوری گزشتہ 5 سال کے دوران312 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ پی اے سی کے فیصلوں کے نتیجے میں قومی خزانے میں مزید رقوم جمع ہوں گی۔ پی اے سی سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق 11مئی 2013 ء کے انتخابات کے بعد وجود میںآنے والی قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کی سربراہی میں کام کاآغاز کیا ۔

عملدرآمد کے حوالے سے قائم ذیلی کمیٹی سمیت 5 ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئیں جنہوں نے پی اے سی کے ہزاروں کی تعداد میں زیر التواء آڈٹ اعتراضات نمٹائے گی۔ مرکزی پی اے سی نے موجودہ دور کے آڈٹ اعتراضات کاجائزہ لیا ۔ پانچ سالوں کے دوران پی اے سی نے 312 ارب روپے کی ریکوری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

(جاری ہے)

18فروری 2008ء کے الیکشن کے بعد پی اے سی نے اس وقت کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں کام کا آغاز کیا۔

اس وقت زیر التواء آڈٹ اعتراضات کی تعداد 15ہزار سے زائد تھی، ان آڈٹ اعتراضات کو بھی ذیلی کمیٹیاں قائم کرکے کافی حد تک نمٹا دیا گیا۔ چوہدری نثار علی خان چار سال تک پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ بعد ازاں ایک سال کیلئے پیپلزپارٹی کے ندیم افضل چن پی اے سی کے چیئرمین رہے۔ پی اے سی نے 2008ء سے 2013ء تک 126 ارب روپے کی ریکوری کی۔ ذرائع کے مطابق موجودہ دور میں 312 ارب روپے کی ریکوریاں آڈٹ حکام سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں۔