سپریم کورٹ نے لگژری گاڑیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس میں وزیراعظم کی منظوری کا ریکارڈ طلب کرلیا

بیرون ملک تو وزیراعظم ایک کھوکھا بھی نہیں دے سکتا‘ جائزہ لیں گے وزیراعظم نے کس قانون کے تحت منظوری دی‘وزراء کھاتے پیتے لوگ ہیں اپنی گاڑیاں کیوں نہیں رکھتے‘چیف جسٹس کے دوران سماعت ریمارکس ‘سماعت (آج) تک ملتوی استحقاق کے بغیر دی گئی تیس گاڑیاں واپس لے لی ہیں‘ایڈیشنل اٹارنی جنرل

جمعہ جون 14:50

سپریم کورٹ نے لگژری گاڑیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس میں وزیراعظم کی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وزیراعظم کی منظوری کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے لگژری گاڑیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بیرون ملک تو وزیراعظم ایک کھوکھا بھی نہیں دے سکتا‘ جائزہ لیں گے وزیراعظم نے کس قانون کے تحت منظوری دی۔ جمعہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

عدالتی حکم پر سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ تین لگژری گاڑیاں کس حیثیت سے استعمال کررہے ہیں زاہد حامد نے بتایا کہ میرے زیر استعمال ایک گاڑی تھی کابینہ ڈویژن کی منظوری سے گاڑی استعمال کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزراء کتنے سی سی گاڑی رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں زاہد حامد نے اظہار لاعلمی کرتے ہوئے بتایا کہ میرے علم میں نہیں۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزراء 1800 سی سی گاڑی کا استحقاق رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس نے زاہد حامد سے استفسار کیا کہ قوانین دیکھے بغیر گاڑی کا استعمال کیسے شروع کردیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بڑی گاڑیوں کی منظوری دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بیرون ملک تو وزیراعظم ایک کھوکھا بھی نہیں دے سکتا۔

جائزہ لیں گے وزیراعظم نے کس قانون کے تحت منظوری دی۔ عدالت نے وزیراعظم کی منظوری کا ریکارڈ کل ہفتہ کو طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزراء کھاتے پیتے لوگ ہیں اپنی گاڑیاں کیوں نہیں رکھتے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ استحقاق کے بغیر دی گئی تیس گاڑیاں واپس لے لی ہیں۔ لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہفتہ کو دوبارہ ہوگی۔