لیڈز ٹیسٹ ،ایلسٹر کک نے 24سال پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا

برطانوی اوپنر سابق کینگرو کپتان ایلن بارڈز سے آگے نکل گئے

ہفتہ جون 15:00

لیڈز ٹیسٹ ،ایلسٹر کک نے 24سال پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا
لیڈز(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 2 جون 2018 ء) انگلش ٹیم کے سابق کپتان اور تجربہ کار اوپننگ بلے باز ایلسٹر کک نے پاکستان کے خلاف لیڈزٹیسٹ میں شرکت کرکے سابق آسٹریلوی کپتان ایلن بارڈر کا مسلسل زیادہ ٹیسٹ میچز میں شرکت کا 24سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ایلسٹر کک اپنے کیریئر کا مسلسل154واں ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں جب کہ ایلن بارڈر نے مارچ1979ءسے مارچ1994ءتک مسلسل 153ٹیسٹ میچز کھیل کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا ۔

ایلن بارڈز اور ایلسٹر کک کے بعد سابق آسٹریلیوی ٹیسٹ کرکٹر مارک وا (107)،سابق بھارتی کپتان سنیل گواسکر(106)اور سابق کیوی قائد برینڈن میکولم (101) اپنے ٹیم کے مسلسل میچز کا حصہ رہے ۔2006ءمیں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے ایلسٹر کک نے اب تک محض ایک ٹیسٹ میچ مس کیا ہے جب وہ اپنے دوسرے ہی میچ میں بھارت کے خلاف ممبئی ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے ۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ ایلسٹر کک کو انگلینڈ کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز (12145) اورسب سے زیادہ سنچریاں(32) بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔

اس سے قبل دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن بری طرح ناکام دکھائی دی اور پوری ٹیم 174 رنز پر پویلین لوٹ گئی جس کے جواب میں پہلے دن کے اختتام تک انگلینڈ نے 2 وکٹ کے نقصان پر 106 رنز بنالیے ہیں۔ ہیڈ نگلے میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی پورتی ٹیم 174 رنز پر آﺅٹ ہوگئی جس کے جواب انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں الیسٹر کک اور کیٹن جیننگز نے اننگز کا آغاز کیا، فہیم اشرف کو جیننگز کو فہیم اشرف نے 29 رنز پر پویلین بھیجا جب کہ الیسٹر کک 46 رنز پر حسن علی کا شکار بنے۔

دن کے اختتام پر ڈومینک بیس صفر اور کپتان جو روٹ 29 رنز کیساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔اس سے قبل قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت نہ ہوا اور یک بعد دیگرے پاکستان کے بلے باز پویلین لوٹتے رہے ایک موقع پر 79 رنز پر 7 کھلاڑیوں کے آﺅٹ ہوجانے پر ٹیم کے لیے 100 رنز بھی بنانا مشکل دکھائی دے رہا تھا تاہم شاداب خان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچری سکور کی جبکہ حسن علی نے بھی 24 رنز بناکر انکا بھرپور ساتھ دیا، شاداب خان 56 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے۔

قومی ٹیم کی جانب سے اننگز کا آغاز اظہرعلی اور امام الحق نے کیا لیکن امام الحق کھاتہ کھولے بغیر ہی رخصت ہوگئے اور اظہر علی بھی 2 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ حارث سہیل اور اسدشفیق نے کچھ دیر مزاحمت کی لیکن وہ بھی بالترتیب 28 اور 27 رنز بناکر آﺅٹ ہوگئے۔ کپتان سرفراز احمد صرف 14 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ٹاپ آرڈر کے پویلین لوٹ جانے کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے تمام تر امیدیں، لارڈز ٹیسٹ میں ان فٹ ہونےوالے بیٹسمین بابر اعظم کی جگہ ڈیبیو کرنےوالے عثمان صلاح الدین سے باندھ لیں لیکن انہوں نے بھی مایوس کن کارکردگی دکھائی اور صرف 4 رنز پر ہی پویلین واپس لوٹ گئے۔

فہیم اشرف کھاتہ کھولے بغیر ہی آﺅٹ ہوئے جب کہ محمد عامر نے 13 رنز کی اننگز کھیلی۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمز اینڈرسن، سٹورٹ براڈ اور کرس ووکس نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔واضح رہے کہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے 9 وکٹوں سے شکست دی تھی۔