ریحام خان نے حمزہ عباسی کی مبینہ دھمکی آمیزای میل شیئرکردی

عمران خان کیخلاف کچھ بھی کہنے سے باز رہیں،ورنہ آپ کیخلاف حساس مواد پبلک کردیا جائے گا،حمزہ عباسی نے دھمکی آمیز ای میل، انہیں بول دیں انہوں نے جو کرنا ہے کرلیں۔ریحام خان کا جواب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ جون 15:34

ریحام خان نے حمزہ عباسی کی مبینہ دھمکی آمیزای میل شیئرکردی
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔02 جون 2018ء) : چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے حمزہ عباسی کی مبینہ دھمکی آمیز ایک میل شیئر کردی۔حمزہ عباسی نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کیخلاف کچھ بھی کہنے سے باز رہیں،ورنہ آپ کیخلاف حساس مواد پبلک کردیا جائے گا،،ریحام خان نے جواب میں کہا کہ انہیں بول دیں انہوں نے جو کرنا ہے کرلیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے ایک مبینہ ایل میل کے ذریعے عمران خان پر الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کے پاس ان کیخلاف کافی حساس مواد ہے اگر انہوں نے عمران خان کیخلاف کچھ بولا توسارا مواد پبلک کردیا جائے گا۔ ریحام خان نے حمزہ عباسی کی ایک دھمکی آمیز مبینہ ایل میل اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر شیئر بھی کی ہے۔

(جاری ہے)

جس کے تحت مبینہ ای میل میں حمزہ عباسی نے سینئر صحافی ریحام خان کو دھمکی دی ہے کہ عمران خان کیخلاف کچھ بھی کہنے سے باز رہیں۔ عمران خان کے پاس آپ کیخلاف بہت کچھ ہے۔۔عمران خان کے پاس آپ کیخلاف حساس مواد ہے جس کو پبلک کردیا جائے گا۔حمزہ عباسی کی مبینہ ای میل میں کہا گیا ہے کہ اگر تم نے عمران خان کیخلاف کچھ کیاتوتمہارے بارے سب آشکارہوجائے گا۔

حمزہ عباسی نے مزید دھمکی دی ہے کہ تحریک انصاف کیخلاف تمہارا جو کچھ کرنے کا ارادہ ہے اس کو ترک کردیں ورنہ پچھتاؤ گی۔دوسری جانب ریحام خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ مجھے اگست 2017ء سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔جبکہ مجھے خاموش کرانے کیلئے برا بھلا بھی کہا جارہا ہے۔انہوں نے حمزہ عباسی کی دھمکی آمیز مبینہ ای میل کے جواب میں کہا کہ مجھے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

ریحام خان نے خبردار کیا کہ انہیں ((عمران خان )کو بول دیں انہوں نے جو کرنا ہے کرلیں۔واضح رہے چیئرمین پی ی آئی عمران خان اور ریحام خان کے درمیان طلاق کے بعد بھی کافی پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے انہیں سوشل میڈیا پرمسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ جب کہ ریحام خان کی کتاب کے بعد انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔