علمائے کرام کے اجلاس میں دھماکہ، 14 افراد جاں بحق

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا اجلاس کے اختتام پر اس وقت ہوا جب علمائے کرام کی اکثریت ہال سے جا چکی تھی،وزارت داخلہ

پیر جون 16:30

علمائے کرام کے اجلاس میں دھماکہ، 14 افراد جاں بحق
کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) افغانستان میں حکومت کے خلاف جنگ کو حرام قرار دینے والے علمائے کرام کے اجلاس میں دھماکے سے 14 افراد جاں بحق ہو گئے ۔ جب کہ36 افراد زخمی ہوئے، ، دھماکا اجلاس کے اختتام پر اس وقت ہوا جب علمائے کرام کی اکثریت ہال سے جا چکی تھی، زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ،،جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاہم اب تک دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں دارے کے مطابق کابل میں علما و مشائخ کے اجلاس کے باہر زوردار دھماکا ہوا ۔ دھماکے کے نتیجے میں آٹھ علماء کرام سمیت 14افرادجاں بحق ہوگئے جب کہ 36 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

افغان وزرات داخلہ نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ دھماکا اجلاس کے اختتام پر اس وقت ہوا جب علمائے کرام کی اکثریت ہال سے جا چکی تھی۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاہم اب تک دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔واضح رہے دھماکے سے کچھ دیر قبل ہی 2 ہزار سے زائد علمائے کرام نے اس اہم اجلاس میں افغانستان میں حکومت کے خلاف جاری جنگ کو غیر شرعی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف ہتھیار اٴْٹھانے والوں کو شر پسند قرار دیا تھا۔