سیکریٹری صحت صالح محمد ناصر کی صدارت میں صوبے میں نئے میڈیکل کالجز کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

منگل جون 21:07

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) صوبے میں نئے میڈیکل کالجز کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سیکریٹری صحت صالح محمد ناصر نے کی جبکہ اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری صحت عبدالرؤف بلوچ ، چیف پلاننگ آفیسر عبدالرسول زہری ، پرنسپل مکران میڈیکل پرویز، ڈاکٹر عبدالرؤف شاہ ، پرنسپل لورالائی میڈکل کالج ڈاکٹر سعید احمد خان ، پرنسپل جھالاوان میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر قاضی مسعود و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔

اجلاس میں تمام نئے میڈیکل کالجز میں کلاسز کے اجراء اور دیگر انتظامات پر تفصیلی غورو خوض کیا گیا ۔ اجلا س میں اخبارات میں پی ایم ڈی سی کی جانب سے مکران میڈیکل کالج کے بارے میں پبلک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں والدین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس کالج میں داخلہ نہ لیں ۔

(جاری ہے)

اجلاس کے شرکاء نے پی ایم ڈی سی کے اس عمل پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے میڈیکل کالجز میں داخلے ہوچکے ہیں اور پی ایم ڈی سی کے قوانین کے عین مطابق ہوئے ہیں اور یہ فیصلہ حکومتی سطح پر اٹھایا گیا ہے جبکہ اس سے پریشانی اور ابہام کو دور کرنے کے لئے بی ایم ڈی سی کے حکام کو پچھلے سال سے رجسٹریشن کے لئے لکھا گیا ہے مگرپی ایم ڈی سی بطور ادارہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پسماندہ صوبے کے بچوں کے مستقبل سے کھیلنا چاہتا ہے جس کی بلوچستان کے حکومتی سطح پر قطعًی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس معاملے کے لئے حکومتی سطح پر تمام دستیاب وسائل کو استعمال میں لایا جارہا ہے شرکاء نے کہا کہ پی ایم ڈی سی بحیثیت ادارہ کے اس عمل سے پسماندہ صوبے کے حوالے سے تعصب جھلک رہا ہے کیونکہ صوبہ میں صرف ایک میڈیکل کالج ہے جہاں پر میڈیکل کی تعلیم دی جارہی ہے اور پی ایم ڈی سی کا یہ عمل والدین اورطلباء کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہے انہوںنے بتایا کہ ان نئے تعلیمی اداروں کے قیام سے حکومت بلوچستان نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور اسکا بنیادی مقصد صوبے میں ڈاکٹر وں کی کمی کو پورا اور لوگوں کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے سوا کوئی اور امر مقصود نہیں ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کا واحد میڈیکل کالج بولان میڈیکل کو اپنے شروعات کے ایک دہائی بعد ادارے کو رجسٹریشن مل سکی جس میں ڈینٹل سیکشن کوجزوی رجسٹریشن دی گئی ہے۔ شرکاء نے پی ایم ڈی سی حکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادارے حکومت بلوچستان نے تعمیر کروائے ہیں اور اس کی رجسٹریشن بھی حکومتی ذمہ داری میں شامل ہے اور پی ایم ڈی سی کو ہر صورت ان نو مولود اداروں کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن کروانی ہوگی جوکہ پچھلے ایک سال سے اداروں کی رجسٹریشن کو التواء کا شکار کیئے ہوئے ہیں۔مکران میڈیکل کالج کے طلباء اس ملک کا روشن مستقبل ہیں وہ اس عمل سے قطعًی پریشان نہ ہوں ۔

متعلقہ عنوان :