رحمان ملک کی دہری شہریت کیس میں فوجداری مقدمہ میں بریت سے متعلق درخواست کی سماعت22جون تک ملتوی

بدھ جون 23:14

رحمان ملک کی دہری شہریت کیس میں فوجداری مقدمہ میں بریت سے متعلق درخواست ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سندھ ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی دہری شہریت کیس میں فوجداری مقدمہ میں بریت سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی عدالت میں رحمان ملک کی جانب سی وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے دہری شہریت کے تمام ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی ختم کرنیکا حکم دیا ہے عدالت سے استدا ہے کہ رحمان ملک کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی اپیل مسترد کی جائے الیکشن کمیشن کی جانب سے رخواست میں موقف اختیارکیاگیا کہ2008 کے انتخابات میں رحمان ملک کی اپنی دہری شہریت چھپانے پرسپریم کورٹ نے کارروائی کا حکم دیا تھا ڈسٹرکٹ اینڈ شیشن جج نی2014میں یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے رحمان ملک کو بری کردیا ماتحت عدالت میں کارروائی کے دوران پیپلزپارٹی کیجانب سے پراسیکیوٹر مقررکیا گیا تھا کیس کے پراسیکیوٹر نے جا ن بوجھ کرکیس کے میرٹ پربات نہیں کیا ورنو ابجیکشن دے دیا رحمان ملک دہری شہریت رکھنے کاخود اعتراف بھی کرچکے تھے عدالت سے استدعاہے کہ سیشن عدالت کا رحمان ملک کو دہری شہریت میں بری قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اوررحمان کو ملک کو انتخابات کے لیے نا اہل قرار دیے کر وصول شدہ مراعات واپس کرنیکا حکم دیا جائے عدالت نے الیکشن کمیشن سے بائیس جون تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوئی کردی۔