افغان حکومت نے عید الفطر کے پیشِ نظر طالبان کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا اعلان کردیا

طالبان کے ساتھ جنگ بندی 27ویں رمضان سے عید الفطر کے 5ویں روز تک رہے گی، افغان صدر طالبان کی اعلی قیادت افغان حکومت کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کا جائزہ لے رہی ہے، طالبان ترجمان

جمعرات جون 23:47

افغان حکومت نے عید الفطر کے پیشِ نظر طالبان کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا ..
کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) افغان حکومت نے عید الفطر کے پیشِ نظر طالبان کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا اعلان کردیا۔افغان صدر اشرف غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ جنگ بندی 27ویں روزے سے لے کر عید الفطر کے 5ویں روز تک رہے گی۔ اب تک طالبان کی جانب سے افغان صدر کی جنگ بندی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا گیا۔

طالبان ترجمان نے بتایا کہ طالبان کی اعلی قیادت افغان حکومت کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کا جائزہ لے رہی ہے۔خیال رہے کہ افغان حکومت کی جانب سے یہ پیش رفت دارالحکومت کابل میں خود کش حملوں اور ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف فتوی دینے کے لیے جمع ہوئے علمائے کرام پر خودکش حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔

(جاری ہے)

افغان صدر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت نہ صرف علما کرام کے دہشت گردی کے خلاف فتوے کی متفقہ طور پر حمایت کرتی ہے بلکہ سیز فائر کی تجاویز کی بھی حمایت کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو طالبان پر حملہ کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کردیے ہیں، جبکہ داعش القاعدہ اور دیگر عالمی دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔یاد رہے کہ رواں ماہ فروری میں افغان صدر اشرف غنی نے ملک میں امن کو بحال کرنے کے لیے امن مذاکرات کا منصوبہ بنایا تھا جس میں طالبان کو بالآکر ایک سیاسی جماعت تسلیم کرنا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے بہتر پیشکش افغان حکومت کی جانب سے پہلے کبھی نہیں دی گئی تھی تاہم طالبان نے اس پیشکش کو رد کرتے ہوئے موسم سرما کے بعد افغانستان اور اتحادی افواج کے خلاف عسکری کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔۔علما کے فتوے میں کہا گیا کہ افغانستان میں کسی بھی طرح کی جنگ غیر اسلامی عمل ہے اور یہ مسلمانوں کے قتلِ عام کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔افغانستان کے علما کے اس فتوے کی افغان صدر اشرف غنی نے حمایت کی جبکہ طلبان کی جانب سے اس فتوے کو مسترد کردیا گیا۔۔