ملک سے باہر جانے والے ہوجائیں ہوشیار

اے ٹی ایم فراڈ کے بعد ایک اور اسکینڈل سامنے آ گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 16:50

ملک سے باہر جانے والے ہوجائیں ہوشیار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) : خبردار، ہوشیار۔۔۔ اے ٹی ایم فراڈ کے بعد ایک اور اسکینڈل منظر عام پر آگیا ہے۔ لُوٹ مار کرنے والے مافیا نے جدید طریقہ کار اپنا لیا ہے۔ یہ مافیا ملک سے باہر جانے والے لوگوں پر نظر رکھتا ہے اور ان کے جانے کے بعد ان کے اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے کا صفایا کر دیا جاتا ہے۔ مافیا کی واردات کا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ جو شہری ملک سے باہر جاتے ہیں یہ ان کے گھروں میں گھُس کر ان کے پی ٹی سی ایل نمبر سے فون کرتے ہیں اور بنک کو فون کر کے ان کے اے ٹی ایم کا پن نمبر تبدیل کرنے کی درخواست دیتے ہیں، پن تبدیل ہونے کے بعد اے ٹی ایم کا رُخ کرتے ہیں اور لاکھوں روپے کی ٹرانزیکشنز کروا لیتے ہیں۔

جب تک شہری پاکستان واپس آتا ہے تب تک اس کے ساتھ فراڈ ہو چکا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اس مافیا کے ہاتھوں لُٹنے والے ایک شہری سلامت بھٹی کا تعلق لاہور کے علاقہ باغبانپورہ سے ہے۔ سلامت بھٹی کچھ روز قبل کاروبار کے سلسلے میں چائنہ گیا تھا ، سلامت کے چائنہ جاتے ہی چوروں نے اس کے گھر میں گھُس کر لینڈ لائن نمبر سے بنک کو فون کیا اور سلامت کے اے ٹی ایم کا پن نمبر تبدیل کروالیا۔

جس کے بعد چوروں نے سلامت کے اکاؤنٹ سے 11 روز میں 11 لاکھ روپے سے زائد رقم مرحلہ وار نکلوا لی۔ اس ضمن میں بنک کی جانب سے نہ تو کوئی ای میل کی گئی نہ ہی سلامت بھٹی کو کوئی کنفرمیشن کال کی گئی۔ واپس آنے پر سلامت بھٹی کو اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کا علم ہوا۔ سلامت بھٹی نے فراڈ کو رپورٹ کرنے کے لیے قریبی تھانے سے رابطہ کیا لیکن پولیس نے بے حسی کا مظاہرہ کیا جس کے بعد یہ کیس ایف آئی اے کے پاس گیا اور اب ایف آئی اے نے اس فراڈ کی تحقیق کا آغاز کر دیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا اس فراڈ میں بنک ملازمین بھی ملوث ہیں یا نہیں۔ اور جس گروہ نے یہ ساری ٹرانزیکشن کی ہیں ان سے متعلق بھی تمام معلومات لی جا رہی ہیں اور کال ریکارڈز کے ذریعے ملزمان کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔