چکوال ،ْمختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کاغذات نامزدگی داخل کرانے کا سلسلہ جاری

اتوار جون 16:40

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کاغذات نامزدگی داخل کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے۔ مجموعی طور پر پچاس کے قریب امیدواروں نے اب تک اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر ادیے ہیں اور 11جون نامزدگی وصول کرنے کی آخری تاریخ ہے اور اس کے بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ شروع ہوگا جبکہ نئے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی حتمی فہرست30جون کو جاری کی جائے گی اور یکم جولائی کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔

پولنگ 25جولائی کو ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم پر ضلع چکوال میں سیاسی بھونچال آ گیا ہے ، پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوںنے ٹکٹوں کی اس تقسیم کو مسترد کر دیا ہے سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک پوسٹ کے مطابق میجر جنرل مسرور احمد نے حلقہ پی پی 22سے الیکشن لڑنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے حلقے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ میجر جنرل مسرور احمد حلقہ این اے 64پر الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں ، جنرل مسرور کا نام پی ٹی آئی نے امیدواروں کی ویب سائٹ سے بھی ہٹا لیا ہے اب اس نشست پر ٹکٹ کیلئے مقابلہ راجہ طارق افضل کالس، راجہ منور احمد، راجہ ذوالفقار اسلم اور پیر وقار حسین کرولی کے درمیان ہے۔

(جاری ہے)

راجہ ذوالفقار اسلم نے پی ٹی آئی میں ابھی تک باقاعدہ شمولیت بھی اختیار نہیں کی البتہ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ٹکٹ کیلئے درخواست آخری مرحلے میں دی ہوئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق اب زیادہ تر پارٹی ٹکٹ نظریاتی کارکنوں اور ماضی میں ہارنے والے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔ ضلع چکوال میں پی ٹی آئی کی تمام مرکزی قیادت ٹکٹوں کی تقسیم پر فارغ ہو گئی ہے ، بحرحال پی ٹی آئی کی طرف سے جو پینل میدان میں اترا ہے سیاسی حلقے اسے فیورٹ قرار دے رہے ہیں دوسری طرف سابق رکن پنجاب اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کی طرف سے تین حلقوں میں کاغذات داخل کرانے کی پر اسراریت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے کہ آخر سردار ذوالفقار علی خان دلہہ چاہتے کیا ہیں کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ حلقہ پی پی 23پر سردار ذوالفقار علی خان کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کا خدشہ دکھائی دیتا ہے جبکہ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کے اندرونی ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چونکہ وہ سرداران چکوال کے شدید مخالف ہیں اور ان کا خیال ہے کہ میجر طاہر اقبال حلقہ این اے 64میں سردار غلام عباس کا بھر پور مقابلہ نہیں کر سکیں گے لہٰذا پارٹی کی ہائی کمان حلقہ این اے 64پر انہیں ٹکٹ جاری کرے ، گذشتہ شام کی افطار پارٹی میں سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقامی پارلیمنٹرنیز کے ساتھ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کے معاملات طے پا گئے ہیں ، بحرحال کاغذات نامزدگی کا مرحلہ جاری ہے جو پیر تک جاری رہے گا بحرحال صورتحال ابر آلود اور دھندلی دکھائی دیتی ہے ۔