نوکنڈی کے شہری شدید گرمی سے بلبلا اٹھے ، پانی کی شدیدقلت، ظالمانہ لوڈشیڈنگ سے عوام ذہنی کوفت کا شکار

اتوار جون 18:20

نوکنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) نوکنڈی کے شہری 50ڈگری سینٹی گریڈ گرمی کی وجہ سے بلبلا اٹھے،شہرمیں پانی کی شدیدقلت، بجلی کی کم وولٹیج وآنکھ مچھولی کی وجہ سے شہری شدیدذہنی کوفت کا شکار ہوگئے کوئی نوٹس لینے والا کوئی نہیں ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق تحصیل نوکنڈی پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں شمارہوتاہے جہاں 50 ڈگری سینٹی گریڈتک پہنچ جاتاہے مگررمضان کے اس بابرکت مہینے میں بجلی کی آنکھ مچولی وانتہائی کم وولٹیج کی وجہ سے روزے دارشدیدذہنی کوفت کاشکار ہیں اور واپڈاکااسٹاف بھی اپنے ڈیوٹی کے پابندنہیں ہے نوکنڈی پاور ہاوس کے اکثرجرنیٹرخراب ہوکرناکارہ پڑے ہے مگرتاحال ان کومرمت نہیں کیاگیاہے اور صرف چندء جرنیٹرفحال ہے اور بجلی کی لوڈ ذیادہ ہونے کی صورت میں وہ بھی ٹرپ کر جاتے ہے اور انتہائی کم وولٹیج ہے جس کی وجہ سے صارفین کے کولرز،پنکھے،بلب،واشنگ مشین اورالیکڑک کے دیگرقیمتی سامان جل رہے ہیں نوکنڈی شہری ایک طرف گرمی سے خاصے پریشان ہیں تودوسری جانب بجلی کی کم وولٹیج ،آنکھ مچھولی اورقلت آب روزے داروں کوسخت پریشانی کاسامناکرناپڑ رہاہے اور اس ماہ صیام کے مہینے میں واپڈااورمحکمہ پی ایچ ای کے زمہ داروں کوخوب بددعائیں دے رہے ہیں شہریوں نے مطالبہ کیاکہ پاورہاوس کے خراب جرنیٹرزکوجلد فحال کرکے استعمال میں لایاجائے اور بجلی کی آنکھ مچھولی اور کم وولٹیج پرقابوں پاکرشہروں کومذید مشکلات سے نجات دلائے ۔

متعلقہ عنوان :