صدرچیمبر آف کامرس شیخ عامر وحید کاروپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر پر تشویش کا اظہار

روپے کی قدر میں کمی سے قرضوں میں اضافہ اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا ،ْشیخ عامر وحید

منگل جون 18:39

صدرچیمبر آف کامرس شیخ عامر وحید کاروپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر پر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے ملک کے بیرونی قرضوں میں گئی گنا اضافہ ہو گا، پیداواری لاگت بڑھے گی اور عوام کیلئے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا لہذا انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت پر زور دیا کہ وہ روپے کی قدر میں استحکام لانے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور روپے کی قدر میں مزید کمی سے ملک کے بیرونی قرضوں میں گئی گنا اضافہ ہو گا کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں ایک روپیہ کم ہونے سے بیرونی قرضے میں تقریبا 60ارب روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

شیخ عامر وحید نے کہا کہ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ایک کمزور معیشت کی عکاس ہے جبکہ اس سے ہماری معیشت کیلئے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے عوام کی قوت خرید کم ہو گی جس سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی کیونکہ خریداری کم ہونے سے صنعت و تجارت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ مصنوعات کی پیداوار کیلئے بہت سا خام مال باہر سے درآمد کرتا ہے لیکن روپے کی قدر میں کمی سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو گا جس سے ہماری برآمدات متاثر ہوں گی کیونکہ مصنوعات مہنگی ہونے سے ان کو عالمی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ جولائی 17تا مئی 18کے دوران بڑھ کر تقریبا 34ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے تجارتی خسارے میں مزید اضافہ ہو گا جس سے ہمارے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو بڑھے گا اور معیشت کیلئے خطرات میں اضافہ ہو گا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے کہا کہ جون 2013میں فی ڈالر 97، 98روپے کا تھا جبکہ روپے کی قدر گرتے گرتے پچھلے دنوں تقریبا,122 123روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی تھی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 20سے 24فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوںنے کہا کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اسی طرح گرتی رہی تو ہماری آنے والی نسلیں قرضوں کے بوجھ تلے دبتی چلی جائیں گی اور معیشت مزید کمزور ہو گی لہذا انہوں نے سٹیٹ بینک اور حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ روپے کی قدر کو مزیدگرنے سے روکنے اور ہماری کرنسی کی ویلیو میں استحکام پیدا کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے۔