پاکستان اور تاجکستان کا باہمی تجارت کو 50 کروڑ ڈالر تک بڑھانے، فضائی سروس کی بحالی اور کاسا 1000 منصوبہ کی جلد تکمیل پر اتفاق

دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے دونوں ممالک مل کر کام کرتے رہیں گے ،ْملاقات میں دونوں رہنمائوں کی گفتگو

منگل جون 20:30

دو شبنے (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) پاکستان اور تاجکستان نے باہمی تجارت کو 50 کروڑ ڈالر تک بڑھانے، فضائی سروس کی بحالی اور کاسا 1000 منصوبہ کی جلد تکمیل پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے دونوں ممالک مل کر کام کرتے رہیں گے۔ یہ اتفاق رائے صدر مملکت ممنون حسین اور تاجک صدر امام علی رحمانوف کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات میں پایا گیا۔

ملاقات کے بعد تاجک صدر امام علی رحمانوف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے تاجکستان کے دورہ کی دعوت پر تاجک صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تاجکستان کے صدر، ان کی حکومت اور عوام کو بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس غیر معمولی اجتماع میں بنی نوع انسان کی بھلائی کیلئے کئے جانے والے فیصلوں کے نہایت مثبت نتائج اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاجک صدر سے ملاقات دوطرفہ تعاون کے ضمن میں بہت اہم رہی جس میں توانائی، رسل و رسائل، تجارت اور دفاع جیسے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر علاقائی و عالمی مسائل بھی زیر غور آئے۔ اس بات چیت کے ذریعے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد میں ابھی بہت سے شعبوں میں مل کر کام کرنے کی بہت گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں علاقائی وحدت، باہمی تجارت اور رابطوں کے فروغ کیلئے سڑک،، ریل اور ہوائی راستے کو زیر استعمال لانے کی بات بھی کی اور یہ فیصلہ کیا کہ ان روابط میں اضافہ کیلئے ہوائی رابطوں کو ازسرنو بحال کیا جائے گا۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ دونوں برادر ملکوں نے مشترکہ مفاد کے مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کیلئے بہت سے نئے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے ہیں جس سے دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کیلئے ہمارے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔

صدر نے کہا کہ ہم نے اس عہد کا اعادہ بھی کیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے مل کر کام کرتے رہیں گے تاہم یہ امر تسلی بخش ہے کہ مشترکہ خطرات سے نمٹنے کیلئے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں ہمارا اشتراک عمل روز افزوں بڑھتا جا رہا ہے۔ اس ضمن یہ امر باعث مسرت ہے کہ بین الاقوامی دہشت گردی کے انسداد کے سلسلہ میں دونوں ملکوں کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس اس سال فروری میں دوشنبے میں ہو چکا ہے جس کے تحت ہم سرحدوں کے درمیان منشیات اور انسانی اسمگلنگ جیسے منظم جرائم کے سدباب کیلئے بھی کام کر رہے ہیں۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبہ میں بھی تعاون میں مزید فروغ کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت پاکستانی سفارتخانہ میں دفاعی شعبہ قائم کیا جائے گا اور تاجکستان کی مسلح افواج کو مضبوط بنانے کیلئے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک باہمی تجارت میں اضافہ کیلئے پرعزم ہیں، اس مقصد کے لیے ہمارے سفارت خانے میں کمرشل سیکشن قائم کردیا گیا ہے جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور نقل و حمل کے سلسلہ میں گروپ کے پہلے اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔

صدر نے کہا کہ دونوں برادر ملک صدیوں سے انتہائی گہرے تاریخی و ثقافتی رشتے میں منسلک ہیں لیکن1991ء میں تاجکستان کی آزادی کے بعد ان رشتوں کو نئی توانائی ملی، ہمارے درمیان زندگی کے مختلف اہم شعبوں میں گہرا تعاون موجود ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو خوش آئند ہے۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ دونوں برادر ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان دوروں کا مسلسل تبادلہ جاری ہے جو ہمارے تعلقات کو مزید وسعت دے رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ابھی چند روز قبل ہی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں برادر امام علی رحمانوف سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ یہ انتہائی خوشگوار ملاقات تھی جس سے برادر امام علی رحمن کے لیے میری محبت میں مزید اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا پلیٹ فارم ہو یا اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ ہو یا اقتصادی تعاون تنظیم، پاکستان اور تاجکستان ہر فورم پر ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو دونوں ملکوں کے مخلصانہ تعلقات کا ایک منفرد پہلو ہے۔

گزشتہ برس پاکستان کی ایس سی او میں مکمل رکنیت کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھل گئی ہیں جو ہمارے تعلقات کی ایک اور جہت ہے۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ جون 2016ء کو ہونے والے 5ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر اطمینان بخش طریقے سے عملدرآمد جاری ہے۔ اجلاس کے فیصلے کے مطابق توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، ذرائع نقل و حمل، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے چار ورکنگ گروپ بنائے گئے۔

خوشی ہے کہ یہ گروپ خوش اسلوبی سے کام کر رہے ہیں۔ تجارت ، سرمایہ کاری ، نقل و حمل اور تیل و گیس پر کام کرنے والے گروپوں کے اجلاس ہو چکے ہیں اور وہ اشتراکِ عمل میں اضافہ کیلئے ٹھوس تجاویز بھی مرتب کر چکے ہیں۔ امید ہے کہ باقی گروپوں کے اجلاس بھی جلد منعقد ہوں گے۔ صدر نے توقع ظاہر کی کہ تاجکستان بھی جلد چار ملکی معاہدہ برائے ٹریفک ان ٹرانزٹ میں شریک ہو جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت تاجکستان کو بھی برائے تجارت پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچنے کیلئے زمینی راستوں کے استعمال کا قانونی حق حاصل ہو جائے گا۔ اس سمجھوتے میں پاکستان ، چین ، کرغستان اور قزاخستان پہلے ہی شامل ہیں۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ تاجکستان کی طرح پاکستان بھی کاسا۔1000 منصوبہ کی جلد از جلد تکمیل کا خواہشمند ہے اور اس مقصد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

صدر نے اپنے تاجک ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ وہ بہت جلد ہمیں اسلام آباد میں میزبانی کا موقع دیں گے۔ اس موقع پر تاجک صدر امام علی رحمانوف نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان گہرے برادرانہ روابط استوار ہیں، پاکستان صرف دوست نہیں رشتے دار اور بھائی ہے، ہم پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔