سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کے " پہلے دن" کی تیاریاں ،

فوٹو لینے پر قید اور جرمانہ مقرر

ہفتہ جون 14:41

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کے
دما م ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کے " پہلے دن" 10 شوال 1439 ھ بروز اتوار کی تیاریاں نقطہ عروج کو پہنچ گئیں۔ محکمہ ٹریفک سے لے کر سیکیورٹی فورس کے اداروں اور سماجی اصلاحات سے تعلق رکھنے والے محکموں کے افسران ، اعلیٰ عہدیداران اور اہلکار اپنے اپنے دائرے میں خواتین کی ڈرائیونگ کے اقدام کو کامیاب بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی خاطر چوکس و مستعد ہیں۔

محکمہ ٹریفک نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی شخص نے گاڑی چلانے والی کسی خاتون کی تصویر اسے نقصان یا اذیت پہنچانے کی خاطر بنائی تو اس پر اسے دو برس تک قید اور ایک لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا ہوگی۔ دونوں میں سے کسی ایک سزا پر بھی اکتفا کیا جاسکے گا۔ صورتحال کا تقاضہ ہوا تو قید کا دورانیہ پانچ برس تک بڑھایا جاسکے گااور جرمانے کی سزا تین لاکھ ریال تک ہوسکے گی۔

(جاری ہے)

چھیڑ خانی کی صورت میں بھی یہی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ دوسری جانب مملکت کے مختلف علاقوں میں خواتین کو ڈرائیونگ ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد لائسنس جاری کئے جارہے ہیں۔ مشرقی ریجن کے محکمہ ٹریفک نے امام عبدالرحمان بن فیصل یونیورسٹی کے ماتحت خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے والے اسکول " شرق" میں ٹریننگ مکمل کرنے پر لائسنس کردیئے۔ 50 سے زائد خواتین نے 30 گھنٹے سے زیادہ کی تربیت حاصل کرکے ڈرائیونگ لائسنس کا استحقاق ثابت کیا۔ مملکت کے دیگر علاقوں میں بھی خواتین کو ٹریننگ مکمل کرنے پر ڈرائیونگ لائسنس دیئے جارہے ہیں۔