چیف جسٹس کا چانڈکا ہسپتال کا دورہ، بلڈروم میں گندگی پرسخت برہمی کا اظہار

بھٹو کے شہر کے ہسپتال کا یہ حال ہے تودوسرے شہروں کے ہسپتالول کا کیا حال ہوگا،جسٹس ثاقب نثار

ہفتہ جون 18:54

چیف جسٹس کا چانڈکا ہسپتال کا دورہ، بلڈروم میں گندگی پرسخت برہمی کا ..
لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان نے لاڑکانہ کے چانڈکا ہسپتال کی حالت زار دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے شہر کے اسپتال کا یہ حال ہے تودوسرے شہروں کے ہسپتالوں کا کیا حال ہوگا ۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار سندھ کے دورے پر لاڑکانہ پہنچے، چانڈکا ٹیچنگ ہسپتال گئے تو وہاں صفائی کے ناقص انتظامات تھے چیف جسٹس نے لیبارٹری کی صورتحال دیکھی تو برہم ہوگئے، ہسپتال میں کچرے کے ڈھیر دیکھ کر ایم ایس اور میئر کی سرزنش کی۔

چیف جسٹس نے مختلف وارڈز کا بھی دورہ کیا، مریضوں کی عیادت کی اور ان کی شکایات بھی سنیں، چانڈکا ہسپتال کے باہر سائلین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ ایک خاتون نے بیٹے کیس کی شنوائی نہ ہونے پر چیف جسٹس کے سامنے احتجاج کیا۔

(جاری ہے)

احتجاج کرنیوالی خاتون کو پولیس اہلکاروں نے دھکے دیئے تو چیف جسٹس برہم ہوگئے۔ جبکہ قبرستان پر بااثر افراد کے قبضے کے معاملے پر چیف جسٹس نے فوری احکامات جاری کئے اور ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کو فوری قبضہ وا گزار کرانے کا حکم بھی دیا۔

چانڈکا اسپتال کے بعد چیف جسٹس نے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کا بھی دورہ کیا،چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیشن جج سے سوال کیا آج کتنے آرڈر کیے، کوئی پرانا آرڈر دکھائیں، ایڈیشنل سیشن جج نے پرانا آرڈر دکھایا تو چیف جسٹس نے آرڈر کاپی دیکھتے ہی میز پر پھینک دیا اور کہا اس پر کیا لکھا ہے انہیں تو شرم آ رہی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے چھ ایڈیشنل سیشن ججز کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ان کے تبادلے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ لاڑکانہ میں سیشن جج محمد علی کا موبائل دیکھ کر غصے میں آگئے،ایڈیشنل سیشن جج کا موبائل اٹھا کر پھینک دیا اور کہا کہ تمہیں موبائل فون عدالت میں رکھنے کی کس نیاجازت دی۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کارروائی کے دوران سرکاری وکیل کی غیر موجودگی پر بھی برہم ہوتے ہوئے کہا کہ اسپتال اور دوسرے اداروں کا دورہ کرکے مطمئن نہیں ، عدالتیں دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی، عدالتی کارروائی اس طرح ہوگی تو لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا۔