الیکشن ارب اور کھرب پتیوں کا ’’شغل میلہ ‘‘، غریب کیلئے کچھ نہیں: ڈاکٹر طاہر القادری

اتوار جون 21:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ساری زندگی قانون کے احترام کا سبق پڑھایا ۔کارکنوں کو امن سکھایا،اگر چاہتے تو سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کے دفن ہونے سے پہلے قاتل دفن ہو چکے ہوتے اور آج انکی برسیاں منائی جا رہی ہوتیں،قانون کے احترام کی وجہ سے صبر و تحمل کے ساتھ چار سال سے انصاف بشکل قصاص کیلئے عدالتوں میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی ایک ادارہ تو ایسا ہونا چاہیے جو طاقتور قاتلوں کے مقابلے میں مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہو اور انہیں انصاف دلوائے،14 بے گناہ شہریوں کے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں اور آلہ کار پولیس افسر پہلے سے بہتر سرکاری پوزیشنز اور مراعات انجوائے کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

بہت سارے نوٹس ہوتے رہتے ہیں مگر انسانی جان کی حرمت کے حوالے سے لئے گئے نوٹس منطقی انجام تک پہنچنے چاہئیں۔

وہ گزشتہ روز پارٹی کے سینئر رہنمائوں سے ملاقات کے دوران مرکزی سیکرٹریٹ میں گفتگو کر رہے تھے۔۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اس نظام کی حقیقی اپوزیشن عوامی تحریک ہے اور ہم اپنی قومی سیاسی ذمہ داری انجام دیتے رہیں گے۔پہلے بھی اس نظام کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جدوجہد اب بھی جاری ہے،ہماری جدوجہد آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے ہے،میں کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی دبی ہوئی آواز ہوں، ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا الیکشن ارب اور کھرب پتیوں کا ’’شغل میلہ ‘‘ہے اس میں غریب کیلئے کچھ نہیں ہے۔۔الیکشن کمیشن اخراجات کی جو حد مقرر کرتا ہے وہ ایک دن کے بینر لگانے سے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ قانون اور انتخابی ،اخلاقی ضوابط کی پامالی سب آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر کوئی بول نہیں پاتا اس نظام نے افراد اور اداروں کو فالج زدہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالیشان گھروں میں رہنے اور’’ ٹھاٹھ بھاٹھ ‘‘کی زندگی گزارنے والوں اور قیمتی گاڑیوں کے کانوائے میں گھومنے والی سیاسی ایلیٹ نے جو اثاثے ظاہر کئے یہی اثاثے انکے جھوٹ کا اشتہار اور ملک و قوم اور قانون کے ساتھ مذاق ہے۔کیا اب بھی کسی کو شک و شبہ ہے کہ اس نظام میں طاقت ور کے احتساب کی کوئی جرات نہیں کر سکتا یہ نظام اور قانون صرف کمزور کی گرفت کیلئے ہے۔انہوں نے کہاکہ اس ظالم نظام کے خلاف عوامی تحریک نے اپنے حصے کی جدوجہد بھی کی ۔ہمارے عزم میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی تاہم جب تک پاکستان کا ہر شہری اس ظلم کے نظام کو قبول کرنے کیلئے نہیں اٹھے گا اس وقت تک ظلم اور ناانصافی سے نجات نہیں ملے گی۔