چودھری نثار علی خان کی مشکلات میں اضافہ

مسلم لیگ ن نے چودھری نثار علی خان کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا، چودھری نثار علی خان کے خلاف مہم چلائی جائے گی اور جلسے کیے جائیں گے۔ میڈیا رپورٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 12:35

چودھری نثار علی خان کی مشکلات میں اضافہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرنے والے مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما چودھری نثار علی خان کو مسلم لیگ ن نے ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن نے چودھری نثار علی خان کے خلاف مہم چلانے اور ان کے خلاف جلسے کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جس سے چودھری نثار علی خان کی انتخابی مہم کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔

قومی اخبار میں شائع ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چودھری نثار علی خان کے خلاف نہ صرف بھرپور انتخابی مہم چلائی جائے گی بلکہ ان کے خللاف جلسے کروا کر پارٹی قائدین سے خطاب بھی کروایا جائے گا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ شیخ رشید احمد نے دوہری پالیسی اپناتے ہوئے نہ ٹکٹ لیا تھا اور نہ مخالفت کی تھی لیکن سیٹ جیت لی تھی،لیکن ہم چودھری نثار علی خان کو یہ الیکشن جیتنے نہیں دیں گے، انہیں پارٹی قیادت کے خلاف چلنے پر سبق سکھایا جائے گا۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان کے خلاف ن لیگ کے اُمیدواران کے نام اور پارٹی ٹکٹ پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے خود فائنل کئے ، جو لوگ پہلے مقابلے سے ہچکچا رہے تھے ، انہیں کہا گیا کہ وہ صرف ن لیگ کے اُمیدواران کو ہی سپورٹ کریں اور ان کا بھرپور ساتھ دیں۔ نواز شریف اپنے اُمیدواران کے حق میں انتخابی جلسے بھی کریں گے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابی مہم کے سلسلہ میں پارٹی قائدین حلقہ 59 سے اورحلقہ 63 میں سیاسی اجتماع سے خطاب بھی کریں گے اور اپنے ورکرز کو صرف شیر کے نشان والے اُمیدوار کو ووٹ ڈالنے کی مہم بھی چلائیں گے تاکہ چودھری نثار علی خان کو انتخابات میں کامیاب ہونے سے روکا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان کی ناراضگی کے معاملہ پر پارٹی قائد نواز شریف نے لچک سے واضح انکار کردیا تھا، نواز شریف نے نثار کے حلقے خالی چھوڑنے کی شہباز شریف اورپارٹی کے سینئررہنماؤں کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

پارٹی قائد میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ پارٹی قیادت سے مخالفت کے بعد کوئی بھی شخص رعایت کا مستحق نہیں ، ایک مرتبہ ایسی دوہری پالیسی اپنا کر شیخ رشید بھی ممبر قومی اسمبلی بنے تھے ا ور پھر سب نے دیکھا کہ انہوں نے کیا گُل کھلائے ، نواز شریف نے واضح کہا کہ نثار نے مشکل وقت میں پارٹی قیادت اور پارٹی کو نقصان پہنچایا ۔ چودھری نثارکے مقابلے میں اُمیدوار کھڑے نہ کرنے سے پارٹی کو نقصان ہو گا اور پارٹی ورکرز بددل ہو جائیں گے،اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن نے چودھری نثار کے خلاف امیدوار کھڑے کر دئیے ہیں ۔

حلقہ 59 سے قمر الاسلام اور 63 سے ممتاز خان کو ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے جب کہ صوبائی حلقوں کے لیے بھی اُمیدواران کو ٹکٹ جاری کردئیے گئے ہیں۔ واضح رہےکہ عام انتخابات 2018ء کی آمد آمد ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اُمیدواروں کو ٹکٹس جاری کرنے اور ہر حلقے میں تگڑا اُمیدوار کھڑا کرنے پر زور رہی ہیں، مسلم لیگ ن اور چودھری نثار علی خان کے مابین چھڑی ہوئی لفاظی جنگ کسی سے چھُپی ہوئی نہیں ہے۔

عام انتخابات کا وقت قریب آتے ہی پی ٹی آئی کی سیاسی فتوحات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی حریف اپنے انتخابی اُمیدواروں نے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان مسلم لیگ ن کی قیادت اور ان کے نئے بیانیے سے غیر متفق نظر آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر چودھری نثار علی خان پارٹی چھوڑ کر کسی اور جماعت میں شامل ہو جائیں گے، چودھری نثار علی خان کی جانب سے پارٹی قیادت اور نواز شریف پر تنقید ایک طرف لیکن انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی خبروں کی بارہا تردید کی ۔

اپنے ایک بیان میں وہ صاف کہہ چکے ہیں کہ میں پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست بھی نہیں کروں گا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر لیکن ناراض رہنما چودھری نثار علی خان نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دے دیئے ہیں اس لیے اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا اور اب زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں 10 جبکہ (ن) لیگ میں 100 سے بھی زائد خامیاں ہیں، عورت راج کے مخالف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پر مسلط کر دی، مجھے 34 سال کی رفاقت کا خیال آجاتا ہے ورنہ میں نے منہ کھولا تو یہ شریف برادران کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لیکن گذشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس میں چودھری نثار علی خان نے نہ تو نواز شریف پر تنقید کی نہ ہی الزامات کی بوچھاڑ کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کا مسلم لیگ ن کا فیصلہ ان کے رویے میں نرمی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ چودھری نثار علی خان مسلم لیگ ن کی جانب سے دئے جانے والے ٹکٹس کو قبول کریں گے یا اپنے آزادانہ حیثیت میں الیکشن لڑنے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ چودھری نثار علی خان نے گذشتہ ہفتے کی گئی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن پر براہ راست تنقید کی نہ ہی پارٹی قائد نواز شریف پر الامات کی بوچھاڑ کی جس کے بعد سابق حکومتی جماعت مسلم لیگ ن نے چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چودھری نثار علی خان کو این اے 59 اور این اے 63 سے ٹکٹ جاری کیا گیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چودھری نثار علی خان کے رویے میں نرمی کی وجہ سے ہی ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا لیکن مریم نواز کی لابی چودھری نثار علی خان کو پارٹی سے نکلوانے میں کامیاب ہو گئی، تاہم گذشتہ روز مسلم لیگ ن نے عام انتخابات 2018ء کے لیے مزید اُمیدواروں کا اعلان کیا تھا ۔

مسلم لیگ ن نے چودھری نثارکے مقابلے میں اپنے اُمیدواروں کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری کیے۔ مسلم لیگ ن نے این اے 59 اورپی پی 10کیلیے راجہ قمرالاسلام کو ٹکٹ جاری کیا پی پی 13سے چودھری سرفراز افضل کوبھی ن لیگ کا ٹکٹ جاری کیا گیا جب کہ ممتا زخان کو این اے 63کے لیے مسلم لیگ ن کے لیے کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔پی پی 20سے راجا سرفراز اصغر،پی پی 12 کے لیے فیصل قیوم ملک کو ن لیگ کا ٹکٹ جاری کیے گئے۔پی پی 19کے لیےذیشان صدیق بٹ کومسلم لیگ ن نے ٹکٹ جاری کردیے۔