سندھ ہائیکورٹ نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پبلک کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت 30جولائی تک ملتوی کردی

پیر جون 17:09

سندھ ہائیکورٹ نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پبلک کرنے سے متعلق درخواست کی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) سندھ ہائیکورٹ نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پبلک کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت 30جولائی تک ملتوی کردی ۔

(جاری ہے)

پیر کوبدنام زمانہ گینگسٹر عذیربلوچ، نثار مورائی، سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹیز پبلک کرنے سے متعلق پی ٹی آی رہنما علی زیدی کی درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورت میں ہوئء دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے استفی دے دیا ہے،بیرسٹر شہریار مہر کو سندھ حکومت کی جانب سے مقدمے کی پیروی کرنے کے لیے مقررکیا گیا، عدالت نے 30 جولائی کو ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے مساعت ملتوی کردی جسٹس اقبال کلہوڑو کا کہنا تھا کہ عدالت بے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو طلب کررکھا یے، اس کیس میں کوئی اور ہیش نہیں ہوسکتا،درخواست گزار کا موقف ہے کہ مذکورہ جے آئی ٹیز کو پبلک کرنے کے لیے چیف سیکرٹری کو خط لکھا، قتل عام اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے بارے میں آگاہی عوام کا حق ہے، چیف سیکرٹری نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا،عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آچکے،سانحہ ماڈل ٹان کی طرح ان تین جے آئی ٹیز کو بھی پبلک کرنے کی ہدایت دی جائے،،لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹان کی جے آئی ٹی کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا،،عدالت جے آئی ٹیز کو منظر عام پر لانے کے احکامات جاری کرے، سندھ حکومت سے پوچھا جائے کہ تین سال سے ان جے آئی ٹیز پر کارروائی کیوں نہیں کی،ملک اور صوبے کے حاکموں کے اوپر سنگین جرائم کے الزامات لگے ہیں،سیاست دانوں اور پولیس اعلی افسران پر بھی سنگین جرائم کے الزامات عائد ہوئے،عذیر بلوچ، نثار مورائی کے انکشافات کو نظر انداز نہیں کر سکتے، یہ الزامات ایک گینگسٹرز نے لگائے ہیں،