الیکشن کمیشن نے فاٹا کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے اور عام انتخابات ملتوی کرانے سے متعلق درخواستیں مسترد کردیں

پیر جون 17:46

الیکشن کمیشن نے فاٹا کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) الیکشن کمیشن نے فاٹا کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے اور عام انتخابات ملتوی کرانے سے متعلق درخواستیں مسترد کردیں۔ پیر کو الیکشن کمیشن میں فاٹا کی صوبائی نشستوں پر عام انتخابات کرانے سے متعلق درخواست کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

متحدہ قبائل پارٹی کے وکیل فروغ نسیم الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران متحدہ قبائل پارٹی کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیئے کہ پورے پاکستان میں انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہئیں۔ اگر فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہ کروائے گئے تو 15 فیصد عوام نمائندگی سے محروم رہیں گے، 15 فیصد بڑی آبادی ہے جس کا الیکشن ایک سال نہیں ہو گا، جنوبی پنجاب میںجولائی میں شدید گرمی ہوتی ہے لوگ باہر نہیں نکل سکیں گے۔

(جاری ہے)

فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 31 ویں ترمیم کے بعد فاٹا کو کے پی کے میں ضم کر دیا گیا ہے۔ فاٹا میں عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہے۔ کے پی کے سے رکن ارشاد قیصر نے کہا کہ شیڈول جاری ہو چکا ہے، کیا آپ انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں فروغ نسیم نے کہاکہ انتخابات ایک ساتھ ہی ہونے چاہئیں، اگر فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہ کروائے گئے تو 15 فیصد عوام نمائندگی سے محروم رہیں گے، جنوبی پنجاب میں 25 جولائی کو شدید گرمی ہوتی ہے، لوگ باہر نہیں نکل سکیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے الگ پٹیشن ہونی چاہئے، اس کا قبائلی علاقوں کی پٹیشن سے کیا تعلق ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ پورے پاکستان کا الیکشن ایک ساتھ ہونا چاہئے، الیکشن کمیشن کا یہ اختیار ہے، قبائلی لوگوں کو قومی دھارے میں لانا ہے، فاٹا کا انضمام تو ہو گیا ہے، الیکشن کمیشن نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے عام انتخابات ملتوی کرنے اور فاٹا کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے سے متعلق درخواستیں مسترد کردیں۔