تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے پاک امریکہ تعلقات پر ایک جامع رپورٹ جاری کر دی

چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجودپاکستان اپنے علاقائی تعلقات کو بہتر بنائے نیز بھارت کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری لائے اور پاکستان امریکہ کی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو وسیع کرے جبکہ امریکہ کو باور کرائے کہ چین کے ساتھ اس کی پارٹنر شپ دوسرے اتحادیوں کیلئے غیر مناسب نہیں ہے، رپورٹ میں سفارشات

پیر جون 21:55

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے پاک امریکہ تعلقات پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجودپاکستان اپنے علاقائی تعلقات کو بہتر بنائے نیز بھارت کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری لائے اور پاکستان امریکہ کی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو وسیع کرے جبکہ امریکہ کو باور کرائے کہ چین کے ساتھ اس کی پارٹنر شپ دوسرے اتحادیوں کیلئے غیر مناسب نہیں ہے۔

یہ رپورٹ آئی پی آر اور واشنگٹن میں قائم معروف تھنک ٹینک یونائیٹڈ اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے تعاون سے تیار کی ہے۔ اس سلسلے میں آئی پی آر نے فیصلہ سازی، سیکورٹی اور غیر ملکی پالیسی کے ساٹھ ماہرین کے انٹرویو کئے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق تعلقات میں تنائو کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مفادات اور ضروریات کو سمجھیں۔

آئی پی آر کی سٹڈی نے کوشش کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان خلاء کو پر کیا جائے۔ رپورٹ کو آئی پی آر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہمایوں اخترخان اور اشرف حیات نے تحریر کیا ہے۔ آئی پی آر کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم کیا جائے لیکن امن قائم کرنے کیلئے دونوں کے طریقے مختلف ہیں کیونکہ دونوں کے مقاصد ایک جیسے نہیں ہیں جہاں تک افغانستان میں بھارت کے اثرات کا تعلق ہے پاکستان افغانستان میں ایک دوستانہ حکومت چاہتا ہے جبکہ امریکہ وہاں پر فوجی حل کاخواہاں ہے۔

اس کے اختلافات جیسے بھی ہوں اس کے باوجود پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اعتماد کی فضاء پیدا کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ کے تمام مطالبات پورے کرے۔ پاکستان کو چاہے کہ امریکہ کو واضح طور پر بتا دے کہ اس کیلئے کیا ممکن ہے اور کیا نہیں۔ امریکہ کو بھی چاہئے کہ افغانستان کی طرف سے کراس بارڈر دہشت گرد کارروائیوں کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے جبکہ پاکستان کو افغان طالبان کے افعال کا ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ کی میانہ روی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سکیورٹی اور معاشی تعلقات کو بہتر بنائے اور امریکہ کی بزنس کمیونٹی کو وہی مراعات دے جو چین کو دی جا رہی ہیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ کی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو وسیع پیمانے پر پھیلا دے نیز پاکستان کو چاہئے کہ امریکہ کو باور کرائے کہ چین کے ساتھ اس کی پارٹنر شپ دوسرے اتحادیوں کیلئے غیر مناسب نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجودپاکستان اپنے علاقائی تعلقات کو بہتر بنائے نیز بھارت کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری لائے۔