اثاثے چھپانے اور غلط بیانی پر تحریک انصاف کے این اے 64 سے امیدوارسردار غلام عباس ‘پی پی 23 سے سردار آفتاب اکبر 2018ء کے عام انتخابات سے آئوٹ

این اے 67 سے پی ٹی آئی کے فواد چوہدری زرعی ٹیکس ادا نہ کرنے اور دوسری بیوی چھپانے پر الیکشن سے باہر ہو گئے کاغذات نامزدگی پر ٹمپرنگ پرمسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی کو بھی الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ٹربیونل نے این اے 57 کے ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل سیشن جج حیدر علی کو آر او کے عہدے ہٹانے کا تحریری حکم جاری کر دیا نیا ریٹرننگ آفیسر مقرر کر کے ایڈیشنل جج حیدر علی کیخلاف انکوائری کی جائے‘ الیکشن کمیشن کو ہدایت

بدھ جون 14:40

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) اپیلٹ ٹریبونل نے این اے 57 سے ٹمپرنگ کے الزام میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ‘ این اے 64 چکوال سے تحریک انصاف کے امیدوار سردار غلام عباس ‘ این اے 67 جہلم سے پی ٹی آئی کے امیدوار اور پارٹی ترجمان فواد چوہدری اور پی پی 23 سے پی ٹی آئی کے امیدوار آفتاب اکبر کے کاغذات اثاثے چھپانے ‘ این ٹی این نمبر ظاہر نہ کرنے پر مسترد کر دئیے۔

الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس عباد الرحمن لودھی نے بدھ کو مختلف قومی و صوبائی اسمبلی سے امیدواروں کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کی چکوال کے حلقہ این اے 64 سے تحریک انصاف کے امیدوار سردار غلام عباس اور پی پی 23 سے امیدوار سردار آفتاب اکبر کیخلاف قاضی عمر ایڈووکیٹ کی اپیل کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

درخواست دہندہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سردار عباس نے اپنے بہت سے اثاثے ظاہر کئے اور نہ ہی اپنا این ٹی این نمبر لکھا ‘ اپنی زمینوں اور فارم ہائوسز کو چھپایا جس پر وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔

دلائل سننے کے بعد الیکشن ٹربیونل کے جج عباد الرحمن لودھی نے سردار غلام عباس کو الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار دیدیا۔ اسی طرح جہلم کے حلقہ 67 سے تحریک انصاف کے امیدوار و مرکزی ترجمان فواد چوہدری کو بھی اثاثے ظاہر نہ کرنے اور غلط بیانی پر نااہل قرار دیدیا ہے۔ دریں اثناء کاغذات نامزدگی میں ٹمپرنگ کے الزام میں ٹربیونل نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شاہد خاقان عباسی کو بھی الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا۔

الیکشن ٹریبونل راولپنڈی نے محفوظ فیصلہ سنایا اپیلٹ ٹریبونل کے جسٹس عباد الرحمن لودھی نے اپیل پر سماعت کی ٹریبونل نے فیصلہ میں کہا کہ درخواست گزار کے تمام اعتراضات کو منظور کیا جاتا ہے شاہد خاقان عباسی کے خلاف مسعود احمد عباسی نے درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات میں ٹمپرنگ کا الزام لگایا تھا اپیلٹ ٹریبونل نے غلطی تسلیم کرنے پر آر او کو بھی معطل کردیا تھا اعتراض کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے لارنس کالج کے جنگل پر قبضہ کررکھا ہے ایف سیون ٹو میں گھر کی ملکیت بھی کم لکھی گئی ہے۔

دریں اثناء ٹربیونل نے این اے 57 کے ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل سیشن جج حیدر علی کو آر او کے عہدے ہٹانے کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے او راس ضمن میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ این اے 57 کیلئے نیا ریٹرننگ آفیسر مقرر کیا جائے جبکہ ٹربیونل کے جج نے رجسٹرار کو ایڈیشنل جج حیدر علی کیخلاف انکوائری کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ …