سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کو الاٹیوں سے رقومات وصول کرنے سے روک دیا، ملک ریاض کوپندرہ روز میں پانچ ارب روپے بطورگارنٹی جمع کرانے کی ہدایت

بدھ جون 21:18

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کو الاٹیوں سے رقومات وصول کرنے سے روک دیا، ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کو الاٹیوں سے رقومات وصول کرنے سے روک دیا ہے، بحریہ ٹائون کے سربراہ ملک ریاض کوپندرہ روز میں پانچ ارب روپے بطورگارنٹی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بحریہ ٹائون کے سربراہ سے لوگوں کی پائی پائی کا حساب لیا جائے گا، لوگوں سے جس قیمت پرزمینیں خریدی گئی ہیں ان کوکم ازکم وہ قیمت توادا کی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک ریاض کے لین دین اورتعلقات کا بخوبی علم ہے، عدالت کوبتایا جائے کہ کیا حکومتیں گرانے اوربنانے میں آپ کا کردارنہیں ر ہا لیکن اب وہ وقت نہیں رہا ، عدالت نے بحریہ ٹائون کیخلاف نیب کوکارروائیوں سے روکتے ہوئے واضح کیاکہ بحریہ ٹائون کی جانب سے عدالتی فیصلہ کیخلاف دائر نظرثانی کی اپیل کا بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

بدھ کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پر ملک ریاض اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ہمراہ پیش ہوکر اپنا تحریری جواب عدالت میں پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اگلے پندرہ روز میں عدالتی حکم کے مطابق پانچ ارب روپے بطورزر ضمانت جمع کردیںگے ، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ملک ریاض کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بحریہ ٹاون سے لوگوں کے پیسے وصول کئے جائیں سوال یہ ہے کہ جن لوگوں سے زمینیں خریدی گئی ہیں ان کومقررہ قیمت توادا کی جائے ، ملک ریاض نے کہاکہ عدالت جوبھی حکم دے گی میں اس پرعمل کروں گا، اس موقع پر چیف جسٹس نے بحریہ ٹائون کی جانب سے دریا سواں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے کی تصویر دکھاتے ہوئے ملک ریاض سے جواب طلب کیا۔

انہوں نے کہاکہ بحریہ ٹائون میں سڑکوں پرایک تنکابھی نظر نہیں آئے گا اور یہ تصویر غلط ہے جس پر ایک مقامی وکیل نے پیش ہوکرعدالت کوآگاہ کیاکہ بحریہ ٹاون کاسارا کوڑا کرکٹ دریا سواں میں پھینکا جاتا ہے یہ ایک معمول ہے ، ملک ریاض نے کہا کہ ہرچیزمیرے کھاتے میں نہ ڈالی جائے ، چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آپ اپنے پیسوں کی تفصیلات ہمیں بتائیں جوآپ کے پاس آنے ہیں، آپ کواخراجات کیلئے جتنے پیسے چاہیے وہ رکھ لیں باقی رقم عدالت کے اکاونٹ میں جائے گی ، ملک ریاض نے کہاکہ میں نے دوآڑھائی سال میں اتنابڑا شہر کراچی میں کھڑا کردیا ہے کیا پیسے کے بغیر یہ ممکن ہے ، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ ملک صاحب آپنی آخرت سنوارنے کیلئے کام کریں، آپ نے جن لوگوں کے پیسے دینے ہیں رقم دے کران کی مشکلات حل کریں۔

عدالت آپ کوسپروائزکرے گی وہ وقت گزر گیا جب آپ کے وجہ سے حکومت تبدیل ہوجاتی تھیں، پہلے پانچ ارب روپے عدالت کے اکائونٹ میں جمع کرائیں ، جوجو رقم آپ کے پاس آئے گی اس کا بیس فیصد عدالت کے اکائونٹ میں جائیگی ،جس کی ماہانہ آڈٹ رپورٹ بھی عدالت کوپیش کرنا ہوگی۔ عدالت نے مزید کہا کہ عدالت نے ان لوگوں کوبھی کچھ دینا ہوگا جن کا رقومات آپ کے ذمے واجب الاد ا ہیں ،ہم نے آپ سے لوگوں کاپائی پائی وصول کرناہے ، عدالت ملک ریاض اوران کے اہلخانہ کی ساری جائیداد ضبط کرسکتی ہے ، بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔