پا ک چا ئنا اقتصا دی راہداری ملک و صو بے کے لئے ہی نہیں بلکہ خطے اور دنیا بھر کے لئے معا شی گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، منصوبے سے با صلا حیت اور تعلیم یا فتہ نو جوا نوں کوروزگا ر کے مواقع بھی میسر آئیں گے ،ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے سنیئر نا ئب صدر محمد ایوب خلجی

منگل جولائی 23:30

کوئٹہ۔10جولائی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جولائی2018ء) ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے سنیئر نا ئب صدر محمد ایوب خلجی نے کہا ہے کہ پا ک چا ئنا اقتصا دی راہداری ملک و صو بے کے لئے ہی نہیں بلکہ یہ خطے اور دنیا بھر کے لئے معا شی گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، اس منصو بے سے نہ صرف ملک اور صو بے سمیت خطے میں معا شی انقلا ب بر پا ہو گا بلکہ اس سے با صلا حیت اور تعلیم یا فتہ نو جوا نوں کوروزگا ر کے مواقع بھی میسر آئیں گی ، خواتین ملک کی آ با دی کا نصف ہے ملک کی ترقی کے لئے ان کامردوں کے شا نہ بشانہ جدو جہد وقت کی اہم ضرورت ہے ، صو بے میں خواتین کو صنعت و تجا رت سمیت تما م شعبوں میں آ گے آ نا ہو گاوگر نہ ترقی کی دوڑ میں ہم پیچھے ہی رہیں گے۔

ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے چیمبر آ ف کا مرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ میں وزارت سائنس و ٹیکنا لو جی کی جا نب سے پیدا وار ، معیا ر اور جدت کے 2025اقدام کے تحت چھوٹے اور درمیا نے درجے کے کا رو با ری اداروں کے لئے کسی معیا رکی تصدیق اور توثیق کی تکمیل پر ما لی معا ونت کے پروگرام معیار کی تصدیق اور توثیق کروائیے اور صا رف کو فا ئدہ پہنچا ئیے کے عنوان سے منعقدہ تربیتی سیشن کے شرکا ء سے اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کیا۔

اس سے قبل وزارت سائنس اینڈ ٹیکنا لو جی و دیگر کے حکام نا صر بلو چ ،اجمل بٹ ،اسسٹنٹ منیجر سمیڈا محمد اقبا ل بلو چ و دیگر کی جا نب سے مختلف شعبہ جا ت سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کوکسی معیا ر کی تصدیق و توثیق کی تکمیل پر ما لی معا ونت سے متعلق معلو ما ت فرا ہم کی گئی بلکہ انہیں تفصیلا آگا ہ کیا گیا ،انہوں نے کہاکہ ہم سیفٹی انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ ،معیاری فوڈ،ودیگر کے حوالے سے دی گئی معلومات کے بعد توقع رکھتے ہیں کہ شرکاء اس سے دوروں کو بھی پہنچائینگے ،اس موقع پر چیمبرآف کامرس کے سینئر نائب صدر محمد ایوب خلجی کاکہناتھاکہ اس طرح کے آگاہی سیشنز کا سلسلہ مزید بھی ہوناچاہیے،اس سے نہ صرف معلومات میں اضافہ ہوتاہے بلکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں اور تاجر پیشہ افراد کی احساس محرومی بھی کم ہوگی اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کے برابر انے آکا موقع ملے گا انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبہ پاکستان اور بلوچستان کیلئے ہی نہیں یہ پورے خطے اور دنیا کیلئے معاشی گیم چینجر کی حیثیت رکھتاہے ،اس کیلئے ہمیں بڑے پیمانے پر سکلڈ لیبر کی ضرورت پڑے گی ،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں جنگی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں اس سلسلے میں ہمیں زیراعلیٰ بلوچستان ،کور کمانڈر اور دیگر حکام کابھی بھرپور ساتھ حاصل ہے ،انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نہ صرف ایکسپو سینٹر کی تعمیر کیلئے زمین کی الاٹمنٹ کااعلان کیاگیاہے بلکہ 20کروڑ روپے بھی ایکسپو سینٹر کی تعمیر کیلئے رکھے گئے ہیں انہوں نے خواتین پر زور دیاکہ وہ وومن چیمبرآف کامرس کو فعال کرنے کیلئے کام کرے ،این ٹی این ہو یا کوئی اور مسئلہ کی بابت چیمبرآف کامرس ان کا بھرپور ساتھ دیگی ،انہوں نے کاکہ دستکاری ،گھریلو صنعت اور دیگر کو صوبے اورملکی سطح پر پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے جب تک زندگی کے تمام شعبوں کو خواتین کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی نہیں دی جاتی اس وقت تک ہمارا ملک اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوگا۔

Your Thoughts and Comments