ووٹ کس کو دیں گے،گونگے بہرے افراد نے ہاتھوں سے اشارے کرکے بلے کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا

اینکر نے جب پوچھا کہ آپ لوگ ووٹ کس کو دیں گے تو بولنے سے معذور افراد نے ہاتھوں سے اشارے کر کے عمران خان سے اپنی محبت کا اظہار کیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جولائی 22:41

ووٹ کس کو دیں گے،گونگے بہرے افراد نے ہاتھوں سے اشارے کرکے بلے کو ووٹ ..
ملتان(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-11جولائی 2018ء) ::ووٹ کس کو دیں گے،گونگے بہرے افراد نے ہاتھوں سے اشارے کرکے بلے کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔ اینکر نے جب پوچھا کہ آپ لوگ ووٹ کس کو دیں گے تو بولنے سے معذور افراد نے ہاتھوں سے اشارے کر کے عمران خان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کے دن قریب سے قریب تر آرہے ہیں۔سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔

اس سارے معاملے میں سب سے اہم فریق ووٹر ہے جو اس سارے عمل کو انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہا ہے اور 25 جولائی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے انتہائی پرجوش ہیں۔ووٹرز نے ابھی سے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں۔اس حوالے سے 10 سال مسلسل مسلم لیگ ن کی حکومت دیکھنے کے بعد جنوبی پنجاب کے سماعت اور بولنے کی قوت سے محروم لوگوں نے بھی مسلم لیگ ن سے بغاوت کا اعلان کردیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر نجی ٹی وی کے اینکر عمران خان سروے کر رہے تھے کہ آئندہ الیکشن میں ووٹرز کا رحجان کس جانب ہے تو اس موقع پر وہ وہاں موجود معذور افراد سے بھی ملے جو پیدائشی طور پر گونگے بہرے تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ آئندہ الیکشن میں ووٹ کس کو دیں گے تو ان لوگوں نے ہاتھوں سے اشارے کرکے بتایا کہ وہ اس مرتبہ عمران خان کو ووٹ دیں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ مسلم لیگ ن کے بارے میں کیا خیال ہے کیا انکو بھی ووٹ دیں گے یا نہیں تو وہاں موجود کسی بھی شخص نے شیر کو ووٹ دینے کی حامی نہیں بھری۔

عمران خان اور تحریک انصاف کو ملک بھر سے ایسے بہت جیالوں کی حمایت حاصل ہے ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں یک ضعیف شخص نے انتہائی تشویشناک حالت میں پاکستانیوں کے لیے انتہائی اہم پیغام جاری کر دیا۔خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے سکول ٹیچر کا کہنا تھا کہ عزیز ہم وطنو،مرے دوستو میں بہت سخت بیمار ہوں لیکن میں نے ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی ہے کہ میں عمران خان کے بارے میں اپنی قوم کو کچھ پیغام دینا چاہتا ہوں اور انہوں نے میری اس درخواست کو مان لیا ہے۔

میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں پرائمری سکول ٹیچر ہوں اور پچھلے 2 مہینوں سے بیمار ہوں ۔میں اس مرتبہ ہسپتال آیا ہوں تو عمران خان کا صحت کارڈ میری جیب میں تھا ۔یہاں کے ڈاکٹروں نے اسے قبول کیا اور اس پر میرا علاج جاری کیا۔اس پر ابھی تک میرا مفت علاج جاری ہے۔ضعیف شخص کا کہنا تھا کہ اس موقع پر میں تو یہی کہنا چاہوں گا کہ جتنے بھی میرے بہن بھائی ہیں ،وہ سب میری نیکی کو دیکھو ۔میرے اہلخانہ اب تک عمران کے لیے دعا گو ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ میں تو یہ کہنا چاہوں گا کہ سچے لیڈر بہت ہوں گے مگر یہ جو لیڈر ہے یہ سب سے سچا ہے۔۔عمران خان زندہ باد ہے۔