دیامر بھاشا اور مہمند دونوں ڈیموں پر تعمیراتی کام آئندہ برس کے وسط میں شروع ہو جائے گا ، ان ڈیمزکی تکمیل کے لئے بالترتیب 9 اور 5 سال درکار ہوں گے

چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین کی میڈیا سے بات چیت

جمعرات جولائی 20:16

دیامر بھاشا اور مہمند دونوں ڈیموں پر تعمیراتی کام آئندہ برس کے وسط ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین کہا ہے کہ دیامر بھاشا اور مہمند دونوں ڈیموں پر تعمیراتی کام آئندہ برس کے وسط میں شروع ہو جائے گا اور ان کی تکمیل کے لئے بالترتیب 9 اور 5 سال درکار ہوں گے۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی عملدآمد کمیٹی (آئی سی ڈی بی ایم ڈی) کے پہلے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ چیف جسٹس آف پاکستان کا بے مثال اقدام ہے اور دونوں منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کیلئے حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی میں چاروں صوبائی سیکرٹریوں، وزارت کے سینئر حکام، سابق چیئرمین واپڈا، ٹیکنیکل اینڈ فنانشل ماہرین سمیت 34 اراکین شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 1958-1976 کے عرصہ میں ڈیموں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر کے لئے شاندار طریقہ کار اختیار کیا گیا اور منگلا، تربیلا ڈیموں جیسے میگا منصوبوں، 5 بیراجوں اور 7 رابطہ نہروں کے منصوبے اس عرصہ میں مکمل کئے گئے۔

تاہم چیئرمین نے کہا کہ بعد ازاں طریقہ کار سست روی کا شکار ہو گیا جس سے منصوبوں کی تکمیل کی مدت میں 10 سے 15 سال کی تاخیر ہونے لگی۔ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں پلاننگ کمیشن میگا منصوبوں کی تعمیر میں مصروف عمل تھا۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ ملک میں پانی کی صورتحال سنگین ہے اور بمشکل 10 لاکھ ایکڑ فٹ پانی آبی وسائل میں دستیاب ہے جو اس کے مقابلے میں گزشتہ برس 6.7 ملین ایکڑ فٹ پانی تھا۔

چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ واپڈا نے گزشتہ ڈیڑھ برسوں میں مشکل حالات کے باوجود 4 میگا منصوبے مکمل کئے ہیں جن میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور، تربیلا کا چوتھا توسیعی منصوبہ، گولن گول اور کچھی کینال کے منصوبے شامل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں منصوبوں پر اپنے وسائل سے فنڈز لگائے جائیں گے اور دیامر بھاشا کے ڈیمج کے حصہ پر لاگت تقریباً 476 بلین روپے لاگت آئے گی۔ تقریباً ڈیڑھ سے دو بلین کے غیر ملکی فنڈز سے درکار ہوں گے۔ سیکورٹی کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی مقامی انتظامیہ اس سے متعلق آگاہ ہیں۔