انتخابی دھاندلی کے خلاف حکومت نے پارلیمانی کمیشن نہ بنایا تو (ن) لیگ سڑکوں پر بھرپور احتجاج کرے گی

ایوان کے اندر اور باہر حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کی حکمت عملی طے کی جائے گی مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی بھی (ن)لیگ کاساتھ دے گی ، پیپلزپارٹی لاتعلق رہے گی

ہفتہ اگست 21:35

انتخابی دھاندلی کے خلاف حکومت نے پارلیمانی کمیشن نہ بنایا تو (ن) لیگ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اگست2018ء) انتخابی دھاندلی کے خلاف حکومت نے پارلیمانی کمیشن نہ بنایا تو (ن) لیگ سڑکوں پر بھرپور احتجاج کرے گی،ایوان کے اندر اور باہر حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی حکمت عملی طے کی جائے گی،مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی بھی (ن)لیگ کاساتھ دے گی جبکہ اس سارے عملی میں پیپلزپارٹی لاتعلق رہے گی۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی ن لیگ کے ساتھ کبھی بھی نہیں چل سکتی اس کے اپنے مسائل ہیں اور وہ ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے درمیانی راستے پر گامزن رہے گی۔نوازشریف نے میاں شہبازشریف کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر اسمبلی کے اندر جاندار احتجاج کرکے نادیدہ قوتوں کو بتانا ہے کہ ن لیگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ عوام کے اندر اس کی جڑیں مضبوط ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق میاں نوازشریف نے شہبازشریف کو بتایا کہ موجودہ حکومت کو بتائیں گے کہ احتجاج کیا ہوتا ہی ،اس کی ایک جھلک گزشتہ سے پیوستہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دکھائی گئی جہاں سپیکر اسمبلی اسد قیصر بالکل بے بس نظر آئے۔ایک موقع پر انہوں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ دیا وہ ایوان کو کنٹرول کرنے میں بُری طرح ناکام رہے۔میاں نوازشریف نے ن لیگ کے رہنماؤں کو اسمبلی میں مؤثر احتجاج کرنے پر انہیں شاباش دی اور ہدایات جاری کیں کہ جدوجہد کا راستہ ترک نہیں کرنا۔ووٹ کو عزت دو کی بحالی تک یہ جدوجہد جاری رکھیں۔