ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی خاتون نے ٹرک چلانا شروع کر دیا

ناگرپارکر سے تعلق رکھنے والی خاتون مالی مشکلات کی وجہ سے ڈاکٹر نہیں بن سکی تھی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل ستمبر 23:52

ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی خاتون نے ٹرک چلانا شروع کر دیا
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18ستمبر 2018ء) : ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی خاتون نے ٹرک چلانا شروع کر دیا۔تفصیلات کے مطابق یوں تو خواتین زندگی کے ہر شعبے میں ہی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں لیکن کچھ خواتین کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں واقعہ خواتین کو کام کرنے کی آزادی ہے اور یہ کہ اگر خواتین چاہیں تو وہ کسی بھی شعبے میں مردوں کو بھی پچھاڑ سکتی ہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر رخسانہ نامی خاتون کی ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں وہ ٹرک چلا رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رخسانہ کا تعلق ناگر پارکر سے ہے۔رخسانہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی تاہم مالی مشکلات کی وجہ سے رخسانہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا۔لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹرک چلانا شروع کر دیا۔

(جاری ہے)

سوشل میڈیا پر رخسانہ کی ہمت کی خوب داد دی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ایک ایسا طبقہ جہاں مرد غالب ہے اس میں خاتون کا ٹرک چلانا واقعہ بہت بہادری کا کام ہے۔واضح رہے اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی خواتین بھی اب کسی سے کم نہیں ہیں۔سندھ کے علاقے اسلام کوٹ میں خواتین نے ٹرک چلا کر اپنا روزگار بنا لیا۔سندھ میں جاری تھر کول منصوبے میں خواتین کو ٹرک چلانے کی باقاعدہ ٹریننگ دی جا رہی ہے۔

ٹرک چلانے والی خواتین کو 25 ہزار روپے تنخواہ کے ساتھ خاوند یا بھائی کو بھی روز گار دیا جاتا ہے۔منصوبے کی پروگرام کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ مقامی خواتین کو با اختیار بنا کر پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کیا جا رہا ہے۔تھر کول منصوبے کے تحت رواں سال تک کوئلے سے بجلی کی پیداوار بھی شروع ہو جائے گی۔تھر کی خواتین نے بھی اس منصوبے کو اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیےفائدہ مند قرار دیا ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے اب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں اور با عزت روزگار کما رہی ہیں۔