بنگالی مہاجرین کو شہریت دینے کے معاملے پر اتحادی بھی نالاں

حکومت اعلان کر دے کہ پاکستان عالمی یتیم خانہ ہے، اختر مینگل

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ ستمبر 00:19

بنگالی مہاجرین کو شہریت دینے کے معاملے پر اتحادی بھی نالاں
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہن ترین اخبار-25ستمبر 2018ء) :بنگالی اور افغانی مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کی بات کرنے پر اتحادی بھی حکومت سے ناراض ہو گئے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ حکومت اعلان کر دے کہ پاکستان عالمی یتیم خانہ ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں بنگالی اور افغان مہاجرین پناہ گزین ہیں۔

اس طبقے کی تیسری نسل پاکستان میں رہ رہی ہے،وہ نسل جس کے اپنی آنکھ ہی اس ملک میں کھولی تاہم یہ وہ لوگ ہیں جو تاحال وطن عزیز کی شہریت سے محروم ہیں۔جس کے باعث نہ صرف وہ برابری کے حق سے محروم ہیں بلکہ انکا استحصال ہورہا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت نے اس مسئلے پر پہلی مرتبہ آواز اٹھائی ۔اس حوالے سے گزشتہ دنوں یہ خبر آرہی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان ان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے پر خاصا شور بھی مچا یا گیا جس پر وزیر اعظم عمران خان اس مسئلے کو لے کر ایوان میں آ گئے اور وہاں اپنا موقف بیان کیا ۔

(جاری ہے)

تاہم ان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کی بات کرنے پر اتحادی بھی حکومت کے مخالف ہو گئے۔سردار اختر مینگل حکومت پر برس پڑے ۔انکا کہنا تھا کہ حکومت بنگالیوں اور افغانیوں کو انسانی حقوق کی بنیاد پر شہریت دینے پر غور کررہی ہے جبکہ بلوچ عوام کو ان کے اپنے ہی ملک میں انسان تک نہیں سمجھا جاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی کچھ کرنا ہے تو حکومت پاکستان کو عالمی یتیم خانہ قرار دے ڈالے۔