حکومت ملک میں کاروبار ی لاگت کم کرنے اور کاروباری طبقے کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کر کے کاروبار کو آسان بنانے کے حوالے سے ملکی رینکنگ بہتر کرنے کیلئے پر عزم ہے،

حکومت کاروبار ی لاگت کو مزید کم کرنے کے لئے کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹیز اور دیگر سمیت مختلف ڈیوٹیوں میں کمی پر غور کر رہی ہے، کاروباری طبقے کے مسائل کے حل اور موجودہ ٹیرف سٹرکچر میں تفاوت کو ختم کرنے کے لئے نیشنل ٹیرف پالیسی کی تیاری پر کام جاری ہے وزیراعظم عمران خان کا کونسل آف بزنس لیڈرز کے اجلاس سے خطاب

بدھ اکتوبر 23:52

حکومت ملک میں کاروبار ی لاگت کم کرنے اور کاروباری طبقے کو ہر ممکنہ سہولت ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کاروبار ی لاگت کم کرنے اور کاروباری طبقے کو ہر ممکن تعاون اور زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے ذریعے کاروبار کرنے کو آسان بنانے کے حوالے سے ملک کی رینکنگ کو بہتر کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں وزیراعظم ہائوس میں کونسل آف بزنس لیڈرز کے اجلاس کی صدارت کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مقامی صنعت کو مضبوط بنانے اور پیداوار کی لاگت کو کم کرنے کے لئے گیس کی قیمتیں 5 درآمدی صنعتوں کے لئے کم کی گئی ہیں تاکہ ہماری مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار کی لاگت کو مزید کم کرنے کے لئے کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹیز اور دیگر سمیت مختلف ڈیوٹیوں میں کمی پر غور کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کے مسائل کے حل اور موجودہ ٹیرف سٹرکچر میں تفاوت کو ختم کرنے کے لئے نیشنل ٹیرف پالیسی تیار کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔ ملک میں کاروبار کرنے کو آسان بنانے کے لئے پاکستان کی رینکنگ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت طریقہ کار کو سادہ اور سہل بنا کر اور زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کر کے پاکستان کو اس حوالے سے پہلے 100 ممالک کی فہرست میں شامل کرانے کا ہدف رکھتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری طبقے کی شکایات کے ازالے اور کاروباری پالیسیوں کے حوالے سے ان کی تجاویز کے لئے سرمایہ کاری بورڈ میں ایک خصوصی کمپلینٹ اینڈ سجیشن سیل قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیل جو کہ وزیراعظم آفس سے رابطے میں ہوگا، ایک ہفتے کے اندر کام شروع کر دے گا۔ وزیراعظم نے معیشت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری لیڈرز،جنہوں نے مینوفیکچرنگ، ایس ایم ایز، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں سمیت معیشت کے مختلف شعبوں کو مضبوط بنانے کے لئے اجلاس کے دوران مختلف تجاویز پیش کیں، کی آراء کو سراہا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں محمد علی ٹبہ، بشیر علی محمد، شاہد صوتی، مس سیما عزیز، اعظم فاروق، شاہد عبداللہ، خاور انور خواجہ، بابر بدر، ثاقب شیرازی، ثمینہ رضوان، الماس حیدر، عبدالرئوف اور زرق خان شامل تھے۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ اسد عمر، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود اور سینئر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔