پاکستان مدینہ جیسی ریاست بن کررہے گا، قوم کی قیادت عمران خان کر رہے ہیں، قومی اسمبلی وسینیٹ میں ہالینڈکے گستاخانہ خاکوں پر قراردادیں لائی گئیں ،

وزیر اعظم کی سفارت کاری سے گستاخانہ خاکے واپس ہوئے ہیں ‘موثر طریقے سے اپنا ردعمل پہلے بھی دکھایااور آئندہ بھی دکھائیں گے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر ڈاکٹر محمد نورالحق قادری کا تحفظ ناموس رسالت قومی علماء و مشائخ کنونشن سے خطاب

پیر نومبر 22:15

پاکستان مدینہ جیسی ریاست بن کررہے گا، قوم کی قیادت عمران خان کر رہے ..
لاہور۔12 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر ڈاکٹر محمد نورالحق قادری نے کہا ہے کہ جہاں نبیؐ کی ناموس رسالت کی بات آتی ہے تو پاکستانی جان و مال نچھاور کردیتے ہیں،قومی اسمبلی وسینیٹ میں ہالینڈکے گستاخانہ خاکوں پر قراردادیں لائی گئیں ، وزیر اعظم کی سفارت کاری سے گستاخانہ خاکے واپس ہوئے ہیں ‘موثر طریقے سے اپنا ردعمل پہلے بھی دکھایااور آئندہ بھی دکھائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز یہاںجمعیت علما اسلام پاکستان( نورانی) کے زیر اہتمام ’’ تحفظ ناموس رسالت قومی علماء و مشائخ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ہوش مندی اورحکمت عملی کے ساتھ ملک میں انتشار پھیلانے والی قوتوں کو شکست سے دو چار کرنا ہو گا اور حکمت و جرات کے ساتھ ان کا مقابلہ کرناہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ توہین رسالت ایک مکتب ،خانقاہ یا مدارس کا موضوع نہیں ،آپ سب کو چھوڑیں ایک بھنگی کوکہیں تووہ بھی ناموس رسالت پر کھڑا ہوجائے گا، پاکستان نے اپنے اصل کی طرف لوٹناہے ،پاکستان مدینہ جیسی ریاست بن کر رہے گا اور قوم کی قیادت وزیر اعظم عمران خان کر رہے ہیں،ہالینڈ کے گستاخانہ خاکوں پر وزیر اعظم نے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں 295C کا قومی اسمبلی ، سینیٹ ، اقوام عالم سمیت ہر فورم پر دفاع کریں گے، کسی بھی قانون کی تشریح کیلئے عدالتی نظام موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توہین رسالت کے بازاروں، چوکوں اور چوراہوں میں فیصلے نہیں ہوتے،اس نقطہ نظر کو کسی عدالتی فورم پر لایا جاتا تونتیجہ کچھ اور نکلتا ،فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائرکرنے کی بجائے احتجاج ، توڑ پھوڑ کا راستہ اختیار کیا گیا ،جب املاک کو نقصان پہنچانے تک معاملہ پہنچ جائے تو یہ ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہو گی کہ قانون حرکت میں آئے اور امن و امان کی صورت حال خراب ہو لیکن ریاست ان کی خواہش پوری نہیں ہونے دے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس معاملہ پر وزیر اعظم کی تقریر ریاست کی پالیسی تھی کہ ہم مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کریں گے اور طاقت اور تشدد کا استعمال نہیں کریں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد زبیر آلوری‘ سابق وزیر مملکت پیر امیر الحسنات‘ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی‘ صاحبزادہ حامد رضا‘ پیر سید منور حسین شاہ‘ ابوالخیر صاحبزادہ محمد زبیر‘ خالد سلطان بابو و دیگر علماء و مشائخ نے بھی خطاب کیا۔