قطب شمالی کی پگھلتی برف ‘سمندروں کی بلند ہوتی سطح دنیا کے لیے خطرہ

آرکٹک برف کی موٹائی دو تہائی کم ہوچکی ہے اوربرف کا 20 لاکھ مربع کلو میٹر رقبہ پگھل کر ختم ہو گیا ہے. ماہرین

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ نومبر 07:48

قطب شمالی کی پگھلتی برف ‘سمندروں کی بلند ہوتی سطح دنیا کے لیے خطرہ
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 نومبر۔2018ء) امریکا کا خلائی تحقیقی ادارہ ناساکی رپورٹ کے مطابق قطب شمالی (آرکٹک اوشن ) کی مستقل برف کی آدھی مقدار نہ صرف گھل کر ختم ہوچکی ہے بلکہ بچی ہوئی برف بھی بہت تیزی سے پتلی ہو رہی ہے. ناسا کے ماہرین سیٹلائٹ ڈیٹا اور سونار کی مدد سے طویل عر صے سے آرکٹک کی برف کا جائزہ لیے رہے تھے‘ماہرین کے مطابق زیرِ آب سونار کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ اب یہاں جو برف موجود ہے اس کی 70 فی صد مقدار موسمیاتی ہے جو کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے جب کہ موٹی اور مستقل برف ”پر ما فراسٹ “ کی بڑی مقدار تیزی سے گھل کر ختم ہو گئی ہے جس وجہ دنیا میں موحولیاتی تبدیلیاں اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے.

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں بر سنے اور جمع ہونے والی برف جتنی بھی تیز ہو لیکن وہ پرانی اور مستقل برف کی جگہ نہیں لے سکتی ،کیوںکہ پرمافراسٹ غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے. موسم گرما میں اس کا پگھلا ﺅ بڑھ جائے گا ،پھر یہ صورت ِحال سمندروں کے گرم ہونے سے مزید خراب ہو جائے گی. جیٹ پر ویلشن لیبارٹری کے ماہر ڈاکٹر رون کووک کے مطابق پورے آرکٹک میں مستقل برف کے بڑھنے ،پگھلنے اور شکل بدلنے کا انحصار موسمی برفباری پر رہ گیا ہے.

ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 1958 ءسے آرکٹک برف کی موٹائی دو تہائی کم ہوچکی ہے ،جس میں قدیم برف کا 20 لاکھ مربع کلو میٹر رقبہ پگھل کر ختم ہو گیا ہے. اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ انٹر گورنمنٹل پینل آف کلا ئمیٹ چینج(آئی پی سی سی) کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں عالمی حِدّت (گلوبل وار منگ ) سے مقابلہ کرنے کے لیے زمینی ماحول میں کی جانے والی کچھ درستگیاں منظر عام پر لائی گئی ہیں.

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ کلا ئمیٹ ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حدت کو 2 ڈگری سینٹی گر یڈ سے زیادہ نہ بڑھانے کے لیے جیو انجینئرنگ کے اقدامات نا گذیر ہیں. جیو انجینئرنگ کی زیادہ تر ٹیکنالوجیز میں یا تو شمسی شعاعوں (دھوپ ) کو مصنوعی بادلوں سے فضا میں منعکس کیا جا تا ہے یا ماحول میں موجود گرین ہاﺅس گیسوں کی کشید کرکے ا ن کی مقدار میں کمی کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

بعد ازاں ٹیکنالوجی کو منفی اخراج کے نام سے معنون کیا جا تا ہے ،جس میں مینار بنا کر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کشید کیا جا تا ہے جو پسی ہوئی چٹا نو ں سے ری ایکٹ کرکے فضا سے رفع ہو جاتی ہے‘ لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز ابھی تک غیر ثابت شدہ ہیں جن کے اثرات غیر معلوم ہیں.

ماہرین کے مطابق مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پرآب وہوا کی معکوس تبدیلی کے لیے ایک لمبے عر صے تک زمینی ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کشید ضروری ہو گی‘ چند کلائمیٹ ماڈل سے اندازہ لگا یا گیا ہے کہ ٹیمپر یچر کو 2 ڈگری سینٹی گر یڈ سے کم کررکھنے کے لیے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا منفی اخراج لازمی ہوگا. اس کے بعد شمسی انعکاس تر تیب solar radiation management اورکاربن ڈائی آکسائیڈ کے منفی اخراج carbondioxide removal جیسے اقدامات کا مکمل جائزہ لے کر ان کی آب وہوا کی تبدیلی پر افادیت کے ثبوت حاصل کرنے ہوں گے۔بر طانیہ میں قائم لیڈزکی یونیو رسٹی میں کلائمیٹ چینج کے پر وفیسر پائرس فارسٹر جو اس رپورٹ میں بھی شامل تھے ،ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی شہادت موجود ہے کہ اگر آپ اخراج میں کمی کی پالیسی نہیں اپناتے تو مستقبل میں ایسے ناگوار اقدامات کرنے پڑیں گے‘موجودہ وقت میں بہت چھوٹے پیمانہ پر جیو انجینئرنگ کے پائلٹ منصوبے کام کر رہے ہیں، جس میں ماحول سے کاربن نکالنے کے لیےدوبارہ جنگلات لگانے کے علاوہ بایو فیول حا صل کرنے والے پودوں سے کاربن کو ختم کرنا ہے.

ان منصوبوں پر ریسرچ کرنے والے سائنس داں اس پر شاکی ہیں کہ ان منصوبوں پر ریسرچ کرنے کے لیے فنڈز کی انتہائی کمی ہے‘لیکن اس رپورٹ کے بعد یہ رویہ تبدیل ہو سکتا ہے . دوسری جانب اقوامِ متحدہ سے وابستہ دنیا کے ممتاز ترین ماہرین ماحولیات اور آب و ہوا خبردار کررہے ہیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج محدود کرنے سمیت دیگر اہم اقدام نہ اٹھائے تو دنیا بھر میں سیلاب، طوفان، موسمیاتی شدت، خشک سالی اور فصلوں کی تباہی کا عمل تیز ہوسکتا ہے جس کے پورے سیارے پر غیرمعمولی طورسے منفی نتائج پڑیں گے.

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنے کے لیے پیرس کے معاہدے پر عمل کرنا ضروری ہے. اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سردمہری سے سخت پریشان ہیں‘ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی مسئلہ ہے جس کا عالمی حل ڈھونڈنا ہوگا.

آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک کی جانب سے سست روی پرانہوںنےشدید مایوسی کا اظہار بھی کیا. ماہرین پہلے ہی خبر دار کرچکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے زمین پر مرتب ہونے والے اثرات بہت تباہ کن ہوں گےان کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے مستقبل میں مسلح تنازعات، بھوک، سیلاب اور ہجرت جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر جائیں گے. ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرین ہاﺅس یا سبزمکانی گیسز کے اخراج میں کمی نہ کی گئی اور کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے ایکو سسٹم یا ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچے گا، جس کے مالیاتی اثرات کئی ٹریلین ڈالرز کے مساوی ہو سکتے ہیں.

تحقیق کے مطابق زمین کے درجہءحرارت میں ہر ایک ڈگری کا اضافہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تباہی بڑھانے کا باعث بنے گا اور اس کی وجہ سے نہ صرف املاک کو نقصان پہنچے گا بلکہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی صحت پر بھی نہایت مضر اثرات مرتب ہوں گے.