خواجہ برادران ایک بار پھر گرفتاری سے بچ گئے

عدالت نے سابق وزیر خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 26 نومبر تک توسیع کر دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ نومبر 13:15

خواجہ برادران  ایک بار پھر گرفتاری سے بچ گئے
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 نومبر 2018ء) : خواجہ برادران پیراگون ہاؤسنگ اسکیم کیس میں عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔دونوں بھائی عدالت میں پیش ہوئے۔خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق ایک بار پھر گرفتاری سے بچ گئے ہیں۔عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری میں 26نومبر تک توسیع کر دی۔

خواجہ برادران نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا پیراگون سے کئی تعلق نہیں ہے۔واضح رہے خواجہ برادران نے پیراگون سٹی اسکینڈل میں لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت حاصل کر رکھی تھی،جس کی مدت آج ختم ہو نی تھی ، اس حوالے سے نیب کا کہنا ہے کہ پیشی کے موقع پر خواجہ برادران کے خلاف اکٹھے کیے گئے شواہد مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش کر دئے جائیں گے، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والے شواہد کے مطابق خواجہ برادران براہ راست پیراگون سٹی کے مالک ہیں، اور ان کے فرنٹ مین کے طور ندیم ضیا اور قیصر امین بٹ کام کرتے ہیں جبکہ مالک خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق ہی ہیں۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ نیب کی جانب سے خواجہ برادران کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد خواجہ برادران کی گرفتاری کا بھی قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے ضمانت میں توسیع کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا تھا جس پر 24 اکتوبر کو سماعت کرتے ہوئے عدالت نے خواجہ برادران کی ضمانت میں 14 نومبر تک کی توسیع کی تھی۔

تاہم آج پھر خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق ایک بار پھر گرفتاری سے بچ گئے ہیں۔عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری میں 26نومبر تک توسیع کر دی۔جب کہ دوسری جانب نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ابق نیب ذرائع نے بتایا کہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق ہی پیراگون سٹی کے مالک ہیں، اس حوالے سے نیب نے اہم اور ناقابل تردید ثبوت بھی حاصل کر لیے ہیں۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ برادران کے خلاف اہم شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں۔ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کی دو ہزار کینال اراضی بھی قانونی طور پر پیراگون سٹی کو دی گئی جو تین سے چار سال تک پیراگون سٹی کے انڈر رہی، پیراگون سٹی نے آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی کچھ ااضی فروخت بھی کی۔ 2017ء میں جب نیب نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا تو بچی ہوئی اراضی آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو واپس کر دی گئی