حکومت کی ترقیاتی پالیسی، معاشی ، اقتصادی و سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور طلباء اور طالبات سے کہا کہ ان سے براہ راست مخاطب ہونے کا مقصد ان کے ذہنوں میں موجود حکومت اور نظام کے حوالے سے پائے جانے والے سوالات کے جواب دینا اور ان کی اعتماد سازی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

جمعہ نومبر 00:50

کوئٹہ۔15نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بدھ کے روز بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ایمرجنگ منیجمنٹ سائنسز کے طلباء اور طالبات سے خطاب کیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر فاروق بازئی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یہ صوبے کی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب کسی وزیراعلیٰ نے کسی یونیورسٹی کے طلباء وطالبات سے انتہائی دوستانہ ماحول میں کسی قسم کے تکلفات سے ہٹ کر براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور طلباء کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے مفصل جوابات دیئے، وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں حکومت کی ترقیاتی پالیسی، معاشی ، اقتصادی و سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور طلباء اور طالبات سے کہا کہ ان سے براہ راست مخاطب ہونے کا مقصد ان کے ذہنوں میں موجود حکومت اور نظام کے حوالے سے پائے جانے والے سوالات کے جواب دینا اور ان کی اعتماد سازی ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ قدرتی طور پر ذہین ہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں درست سمت میں رہنمائی او رآگاہی فراہم کی جائے بالخصوص معاشرتی مسائل کے حوالے سے طلباء کے ذہنوں میں پائے جانے خدشات اور تحفظات کو دور کیا جاسکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ مسائل زیادہ ہیں اور ہر شعبہ میں خامیاں موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بلوچستان ایک مشکل دور سے گزررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں اب تک انگریز کا نظام ہے جس کا جائزہ لے کر اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورننس کی بہتری کے لئے سیاست دانوں، اداروں اورعوام کے درمیان تعلقات کو انتہائی شفاف ہونا چاہئے اور موجودہ صورتحال او رضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی اقدار کو بھی تبدیل ہونا چاہئے، ٹیکنالوجی اور تعلیمی معیار بلندہورہا ہے اگر ہم عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوئے تو مزید پیچھے رہ جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا بدقسمتی سے سیاسی فوائد کے حصول کے لئے نظام کو عارضی بنیادوں پر چلایا جاتا رہا ہے اور ہم اپنے صوبے اور ملک کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم نظام نہیں دے سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقتی فوائد کے حصول اور خود ستائشی پر مبنی نظام سے حکومتیں اور ملک نہیں چلتے، معاشرے کی تبدیلی اور ترجیحات کا ازسرنو تعین ناگزیر ہے عوام کی بنیادی ضروریات پوری ہوں گی تو سیاستدان اور عوام مزید آگے کا سوچ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمار ا شمار کسی وقت بہترین اقوام میں ہوتا تھا لیکن پھر ہم پیچھے رہ گئے اور دیگر ممالک ہم سے آگے نکل گئے، انہوں نے کہا کہ نظام بہت سست ہے جبکہ توقعات اور ضروریات بہت آگے اور تیز ہیں۔ ہم مسائل کا عارضی حل ڈھونڈتے ہیں، اگر ہم مستقل حل کی طرف جائیں گے تو نظام بھی کام کرے گا۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ برے رویوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں ہمیں نئی نسل سے بہت سی امیدیں ہیں کہ وہ صورتحال کی بہتری میں کردار ادا کرے گی۔

طلباء معاشرتی خرابیوں کا مجموعی طور پر غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر ان کا حل تجویز کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعمیری سیاست ہوگی تو نوجوانوں او ر پورے ملک کو فائدہ ہوگا، ہم سیاستدانوں کو اب نمبر گیم میں نہیںجانا چاہئے بلکہ ایک عوامی نمائندہ کی حیثیت سے مجموعی ترقی کے اہداف مقرر کرکے انہیں حاصل کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کے باوجود بھی محب وطن اور بہترین پاکستانی ہیں۔

ایک بہترین اور خوشحال زندگی ان کا حق ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ شرح خواندگی میں کمی ہے جبکہ استعداد، عزم اور دلچسپی کا فقدان بھی ہماری کمزوریاں ہیں جن کو دور کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوان کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کریں اپنے حق اور ضروریات کے بارے میں بات کریںاور معاشرے کے ساتھ ساتھ حکومت کی رہنمائی کے لئے ہراول دستہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ جتنی شخصی اور تحریر وتقریر کی آزادی پاکستان میں ہے وہ شاید بہت سے ممالک میں نہیں ہے تاہم ہمیں ایک ذمہ دار شہری اور سیاستدان کے طور پر اس آزادی کو مثبت طریقے سے استعمال کرنا چاہئے، وزیراعلیٰ نے کہ اس وقت ملک خاص طور سے بلوچستان ایک ارتقائی عمل سے گزررہا ہے جس میں اتار چڑھاؤ آتے رہیں گے اس صورتحال سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور پی ایس ڈی پی کی کتاب میں موجود جاری اور نئے منصوبوں کے لئے چار سو ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ ہماری اپنی آمدنی صرف پندرہ ارب روپے ہے، اس صورتحال میں صوبہ چلانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اسمبلی میں اچھی اچھی تقاریر کرنا تو آسان ہے جس پر تالیاں بھی خوب بجتی ہیں لیکن یہ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ماضی میں ناقص پالیسیوں کے باعث صوبے کو پسماندگی میں دھکیلا گیا اور کسی نے محاصل بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ فنڈز نہیں ہوں گے تو نہ تو تعلیم اور صحت کی سہولیات ہوں گی اور نہ ہی ادارے بنائے جاسکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم صوبے کے محاصل میں اضافے اور سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے منصوبوں کے ذریعہ صوبے کی ترقی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں کیونکہ فرسودہ نظام کی تبدیلی بغیر ہائی ٹیک ترقی نہیں ہوسکتی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ایسا تعلیمی پروگرام لے کر آرہے ہیں جس میں تعلیمی اداروں میں تمام سہولتیں دستیاب ہوں گی، تعلیم کا معیار بہتر ہوگا اور نئی نسل کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں گے۔

انہوں نے کہاکہ نظام میں سرمایہ کاری کے بغیر اور کوئی راستہ نہیں ہے، اس حوالے سے ضرورت کے مطابق قانون سازی کی جائے گی، سرکاری امور کی انجام دہی کو تیز رفتار بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں کینسر ہسپتال اور دل کے امراض کے جدید ادارے قائم کئے جائیں گے، کوئٹہ سمیت ضلعوں کی سطح پر ٹریفک کے مسائل کے حل ، جعلی ادویات کے خاتمے اور خوراک میں ملاوٹ کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے گا،ڈرگ اتھارٹی کو فعال کیا گیا ہے جبکہ قانون سازی کے ذریعہ فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت پانی کا مسئلہ ایک بڑا چیلنج ہے عوام کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ پانی کا بہتر استعمال عوام کی ذمہ داری ہے، انہوںنے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر کے ذریعہ پانی کے ذرائع کو بہتر بنایا جائے گا، گذشتہ برسوں میں پانی کے شعبہ میں پائیدار منصوبے نہیں بنائے گئے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو فعال کیا جارہا ہے ا ور مزید پلانٹ بھی لگائے جائیں گے، وزیراعلیٰ نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ صوبے کی بہتری کے لئے بھی کام کریں، اب یہ نوجوانوں پر منحصر ہے کہ وہ تبدیلی لانا چاہتے ہیں یا وہ فرسود راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح پر تعلیم کا نظام زبوں حالی کا شکار ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے طلباء کا تعاون بھی ضروری ہے، انہوں نے کہاکہ ہم طلباء کے لئے انٹرن شپ پروگرام دیں گے اور نجی شعبہ کو بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا پابند کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے طلباء کو سی پیک، صحت، تعلیم، آبنوشی، قدرتی وسائل کی ترقی، محاصل میں اضافے، شجرکاری سمیت دیگر شعبوں کی ترقی کے لئے اپنی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ نظام میںتبدیلی لانے کے لئے آج کی تعلیم یافتہ نسل اور نوجوانوں کا کلیدی کردار ہوگا، انہوں نے طلباء سے کہا کہ زندگی سیکھنے کا عمل ہے، حکومت نوجوانوں کو تعلیم اور کھیلوں کی جدید سہولتیں فراہم کرے گی تاکہ انہیں آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع مل سکیں۔