عمران خان میں ریاضت کی کمی ہے

نپولین اور ہٹلر نے اگر پالیسی میں یو ٹرن لیے تو ان کی تباہی ہوئی تھی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ نومبر 12:23

عمران خان میں ریاضت کی کمی ہے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 نومبر 2018ء) : وزیراعظم عمران خان کے یو ٹرن سے متعلق بیان پر انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی ایاز امیر نے کہا کہ یوٹرن کا مطلب ہے سیاست میں یا زندگی کے کسی شعبے میں بھی لچک دکھانا، جو کہ ایک اچھی چیز ہے۔ لیکن اگر کوئی چیز سوچ سمجھ کر اس کا فیصلہ لیا جائے اور مزاحمت کا سامنا ہونے پر آپ اس کو یکسر تبدیل کر دیں تو اس کو اچھے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

عمران خان نے اپنے بیان میں تاریخ کے دو بھاری بھرکم نام لے لیے ہٹلر اور نپولین کے۔وہ اگر آپ تھوڑی گہرائی میں جائیں تو آپ کو علم ہو گا کہ ہٹلر اور نپولین نے اپنی جنگی پالیسی اور حکمت عملی میں یو ٹرن لیے تھے جس پر ان کی تباہی ہوئی۔

(جاری ہے)

نپولین کا ہدف انگلستان تھا ، پہلے جا کر روس میں پھنس گئے اور اس کے بعد چھ لاکھ کی فوج لے کر چلے گئے۔ ہٹلر نے بھی یہی کیا، اس کا ہدف بھی انگلستان تھا لیکن اس نے پہلے یونان پر حملہ کر دیا جس سے قیمتی ہفتے ضائع ہوئے۔

پھر روس پر حملہ کیا اور وہاں پھنس گئے۔ روس کے حملے میں بھی یہ تعین نہیں کر سکا کہ ٹارگٹ کیا ہے۔ ہٹلر بھی شفٹ کرتا رہا۔ یوٹرن کا ہٹلر کی تباہی میں ایک بڑا ہاتھ ہے کیونکہ ایسے معاملات میں آپ کو یکسوئی چاہئیے ہوتی ہے، آپ کا ہدف صاسف ہونا چاہئیے۔ سیاست میں بھی جنگ میں بھی اور میدان عشق میں بھی۔ پروگرام میں موجود ہارون الرشید نے کہا کہ یوٹرن کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنا مؤقف ہی تبدیل کر لیا۔

آپ نے اپنی رائے اور راستہ ہی بدل لیا۔ لچک کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنی پالیسی اورحکمت عملی تبدیل کر لی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تاویل کر رہے ہیں، بہانہ بنا رہے ہیں، یہ کوئی مناسب بات نہیں ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ پالسیی بنائی اور اس کو تبدیل کر دیا۔ قائد اعظم کی تعریف اسی لیے کی جاتی ہے کیونکہ وہ سمجھ کر ایک فیصلہ کرتے تھے اور پھر اس فیصلے کو ٹالتے نہیں تھے ۔ عمران خان جو کہ رہے ہیں وہ ناکامی ہے، ان میں ذہنی ریاضت میں کمی کا سامنا ہے اور اس بات پر انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہئیے۔