حکومت خیبرپختونخواہ کا صوبے بھر میں غیرموزوں مقامات پر تعمیر کئے گئے 1843سرکاری سکولوں کو مرحلہ واربندکرنے کافیصلہ

978سکول پہلے ہی بند کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید865 سرکاری سکول بند کئے جارہے ہیں۔ بندکئے جانے والوںمیں زیادہ تر پرائمری اور طالبات کے سکول شامل ہیں

منگل نومبر 14:18

کوہاٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) حکومت خیبرپختونخواہ نے صوبے بھر میں غیرموزوں مقامات پر تعمیر کئے گئے اور فارمولے کے تحت کم تعداد کے حامل 1843سرکاری سکولوں کو مرحلہ واربندکرنے کافیصلہ کرلیا ہے جن میں 978سکول پہلے ہی بند کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید865 سرکاری سکول بند کئے جارہے ہیں۔ بندکئے جانے والوںمیں زیادہ تر پرائمری اور طالبات کے سکول شامل ہیں۔

ان سکولوں کی بندش کے بعدٹیچنگ سٹاف کو دیگر تعلیمی اداروں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا جبکہ نان ٹیچنگ عملے کو فارغ کیا جانے کا قوی امکان ہے۔محکمہ تعلیم کے با خبر ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت نصف قطر کے اندراندر ڈیڑھ کلومیٹر سے کم فاصلے پر غیرموزوں مقامات پر بنائے گئے اورفارمولے کے تحت مطلوبہ معیارکے برعکس طلبہ کی کم تعداد کے باعث صوبہ بھر میں مجموعی طورپر1843 سرکاری سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جن میں978 پہلے ہی بند کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید865 سکول بند کئے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع مطابق غیرموزوں مقامات اورطلبہ کے کم اندراج کی بناء جن سکولوں کو بندکرنے کا اٴْصولی فیصلہ کیا گیا ہے وہاں مقررہ معیار کے مطابق طلبہ کی تعداد 30 سے بھی کم ہے ۔ ان سکولوں کی بندش کے بعد تعینات اساتذہ کو دیگر تعلیمی اداروں میں ایڈجسٹ کرلیا جائے گا جبکہ نان ٹیچنگ عملہ کو فارغ کرنے کی تجویز زیرغورہے۔ ذرائع کے مطابق معیاری طورپر ایک سکول میں چالیس طلبہ کے لئے ایک ٹیچر ہوناچاہیے لیکن ان سکولوں میں طلبہ کی تعدادبہت کم ہے اور چھ طلبہ کے لئے ایک ٹیچر ہے ۔

ذرائع کے مطابق یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاں طلبہ کے داخلے کا اندراج کم ہو وہاں آئندہ ڈیڑھ کلومیٹر کے نصف قطر میں کوئی سکول تعمیر یا اپ گریڈ نہیں کیا جائے گا جبکہ جہاں طلبہ کا اندراج 80 سے کم ہو وہاں آئندہ کوئی اضافی کلاس روم تعمیر نہیں کی جائے گی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ محکمہ تعلیم کے حکام نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ آئندہ سکول کی تعمیر اور اپ گریڈیشن خودمختار مانیٹرنگ یونٹ کی فیزیبلٹی رپورٹ کی بنیاد پر ہوگی اور کسی سکول کی تعمیر یا اپ گریڈیشن کے لئے مقررہ معیار کے مطابق طلبہ کے اندراج کے بارے غلط معلومات دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ان سکولوں کی تعمیر پر مبینہ طورپر اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔

متعلقہ عنوان :