اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس رسول کا امتی بنایا جو رحمتہ للعالمین تھے، آپؐ کی ہمہ گیر اور جامع الصفات شخصیت ہر انسان کیلئے قابلِ تقلید ہے،

وطن عزیز کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے میں ہم سب کی بقاء اور سربلندی ہے، موجودہ حکومت ریاستی امور کے حوالہ سے اس مثالی ریاست سے بھرپور رہنمائی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے وزیراعظم عمران خان کا عید میلاد النبیؐ کے موقع پر پیغام

منگل نومبر 22:07

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس رسول کا امتی بنایا جو رحمتہ للعالمین تھے، آپؐ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے وطن عزیز کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسی میں ہم سب کی بقاء اور سربلندی ہے، موجودہ حکومت ریاستی امور کے حوالہ سے اس مثالی ریاست سے بھرپور رہنمائی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے یہ بات عید میلاد النبیؐ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو (آج) بدھ کو منایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے عید میلادالنبیؐ کے موقع پر تمام اہلیان وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس رسول کا امتی بنایا جو رحمتہ للعالمین تھے، آپؐ کی ہمہ گیر اور جامع الصفات شخصیت ہر انسان کیلئے قابلِ تقلید ہیں، آپؐ نے ایک ایسی نسل تیار فرمائی جس نے ساری دنیا میں اسلام کے منصفانہ اور عادلانہ قوانین کی دھاک بٹھا دی، جب تک یہ نظام بالا دست رہا اقوام عالم کو عدل و انصاف، مساوات، مذہبی رواداری کے وہ مناظر دکھاتا رہا جن کے دیکھنے کی آج نہ معلوم کتنی آنکھیں منتظر ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ رحمة للعالمینؐ کے امتی اور ایک ایسی ریاست جو اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آئی، کے شہری ہونے کے ناطے ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہم بھی وطن عزیز پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کی کوشش کریں اسی میں ہم سب کی بقاء اور سربلندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ انسانی فلاح و بہبود کے حوالہ سے ایک ایسی مثالی ریاست تھی جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ریاستی امور کے حوالہ سے اس مثالی ریاست سے بھرپور رہنمائی حاصل کریں جو ہمارے لئے رہنمائی کا سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ بھی ہے تاکہ وطن عزیز بھی ریاست مدینہ کی طرز پر مساوات، عدل و انصاف کی فراہمی اور مذہبی رواداری کا وہ منظر پیش کرے جس کا ہم سب کو انتظار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں آج کے دن یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم ہر قسم کے مفادات خواہ وہ سیاسی ہوں یا مذہبی یا پھر معاشرتی ہوں ان سے بالاتر ہو کر نبی اکرمؐ کے اُسوہٴ حسنہ کی پیروی کریں گے اور ہم ہر اُس عمل سے اجتناب برتیں گے جس سے دنیا میں اسلام کے تشخص یا تاثرپر حرف آئے۔

انہوں نے کہا کہ آج میری تمام ہم وطنوں سے یہی درخواست ہے کہ اپنے اندر اتحاد و اتفاق، عفو و درگزر، برداشت، صلہ رحمی، مذہبی رواداری اور مفاہمتی عمل پر مبنی اوصاف پیدا کریں کیونکہ یہی وہ تعلیمات نبویؐ ہیں جن کو اپنا کر ہم ہر قسم کے چیلنجزکا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی ہمیں اسوہٴ نبویؐ کی روشنی میں اپنے روز و شب بسر کرنے اور سیرت مطہرہ کے پیغام کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔