ملک میں مالی بحران نے قوم کے معماروں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا

محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں 13 ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ دسمبر 12:16

ملک میں مالی بحران نے قوم کے معماروں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2018ء) : ملک میں مالی بحران اور دن بدن گرتی ہوئی معیشت نے قوم کے معماروں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سالانہ بجٹ میں 13 ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی ہے۔ ساہیوال ، جھنگ اور اوکاڑہ سمیت چار ورلڈ کلاس ویمن یونیورسٹیوں کی تعمیر کا منصوبہ بھی التوا کا شکار ہو گیا۔

لاہور ارفع کریم کی طرز پر محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے مزید تین ورلڈ کلاس یونیورسٹیاں بنانے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔اس منصوبے کے لیے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو 18 ارب روپے جاری کیے جانا تھے لیکن سالانہ ترقیاتی بجٹ میں کمی سے 18 ارب میں سے صرف 5 ارب روپے جاری ہوئے اور تیرہ ارب روپے کی کٹوتی کر لی گئی۔

(جاری ہے)

فنڈز کی کٹوتی کے باعث یونیورسٹی آف ساہیوال ، یونیورسٹی آف جھنگ ، یونیورسٹی آف اوکاڑہ اور غازی یونیورسٹی سمیت چار ویمن یونیورسٹیوں کی بلڈنگ کی تعمیر شروع نہیں کی جا سکی۔

فنڈ میں کمی اور بجٹ میں کٹوتی کے باعث قوم کے معمار ورلڈ کلاس یونیورسٹیوں سے محروم ہو گئے۔ ملک میں ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت اور معاشی بحران کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ، مالی بحران کی وجہ سے محکمہ ہائیر ایجو کیشن کمیشن کو دئے جانے والے فنڈ کی بھی کٹوتی کر لی گئی۔ اس معاملے پر ایجوکیشن سیکٹر سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے لیکن مالی بحران کی وجہ سے مستقبل کے معماروں کو ورلڈ کلاس تعلیم سے محروم رکھنا افسوسناک ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل جو منشور پیش کیا تھا اس میں تعلیم کو نمایاں اہمیت حاصل تھی لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے حکومت کو کئی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ معاشی بحران پیدا ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔