اپنی گرفتاری کیخلاف جیل میں بھوک ہڑتال کرنیوالا ایرانی رضاکار جاں بحق

جمعرات دسمبر 19:15

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) ایران میں اپنی گرفتاری کے خلاف دو ماہ سے جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے رضاکار وحید صیاد نصیری انتقال کر گئے۔انسانی حقوق ایجنسی ’ھرانا‘ نے مرحوم نصیری کے لواحقین کے حوالے سے بتایا کہ ان کے خاندان کے اکلوتے بیٹے کو حال ہی میں جیل سے رہائی ملی تھی، تاہم بعد میں انہیں قم شہر میں انٹیلی جنس اہلکاروں نے یکم اگست کو دوبارہ گرفتار کر کے ایک ہفتے بعد قم کی الساحلی جیل بھیج دیا۔

(جاری ہے)

وحید صیاد نصیری پر سوشل میڈیا کے ذریعے مرشد اعلیٰ کی اہانت، حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ اور قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے والی ٹویٹس کا الزام تھا۔گرفتاری کے چند دنوں بعد ہی وحید صیاد نصیری کو انقلاب عدالت نے ساڑھے چار برس قید کی سزا سنا دی گئی تھی ،سزا کے بعد صیاد نصیری نے بھوک ہڑتال کر دی تھی ، ان کے اہل خانہ کے بقول دو ماہ تک کی ،بھوک ہڑتال سے ان کا نظام انہضام بری طرح خراب ہو گیا حتی کہ وہ پانی بھی نہیں پی سکتے تھے۔ جیل حکام نے ان کی صحت پر کوئی توجہ نہیں دی جس سے ان کی حالت روز بروز بگڑتی گئی۔مکمل طور پر نڈھال نصیری کو جیل انتظامیہ نے ہسپتال منتقل کر کے ان کے لواحقین کو اطلاع دی تاہم ان کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ قم ہسپتال میں دم توڑ گئے۔