والد کا نام نہیں ہٹایا جا سکتا ،ْ سپریم کورٹ نے تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کیس نمٹا دیا

عدالتی معاونین کی رائے ہے نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا، باپ سے نان نفقے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے ،ْ چیف جسٹس باپ کا نام دستاویزات پر لکھنے میں کوئی مفاد عامہ نہیں ،ْ عدالتی معاون مخدوم علی خان

جمعرات دسمبر 20:32

والد کا نام نہیں ہٹایا جا سکتا ،ْ سپریم کورٹ نے تطہیر فاطمہ بنت پاکستان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) سپریم کورٹ نے والد کا نام تبدیل کرنے سے متعلق تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کیس نمٹا تے ہوئے کہاہے کہ والد کا نام نہیں ہٹایا جاسکتا ۔ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی معاونین کی رائے ہے نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا، باپ سے نان نفقے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔

عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ باپ کا نام دستاویزات پر لکھنے میں کوئی مفاد عامہ نہیں۔امنہوںنے کہاکہ امریکا، یو اے ای، سعودی عرب میں شناختی دستاویزات پر باپ کا نام نہیں ہوتا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ باپ کا نام نہ لکھا جائے، ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے۔

(جاری ہے)

مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ نادرا کو کہہ دیں کہ والد کا نام نہ لکھیں، لیکن اس کے لیے نادرا کو نیا سوفٹ ویئر لگانا پڑیگا۔

عدالتی معاون وکیل نے کہا کہ بیرون ممالک سفر کے لیے تطہیر فاطمہ کو باپ کے نام کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ شرعی اور قانونی رائے کے مطابق باپ کا نام ہٹایا نہیں جا سکتا۔ نجی ٹی و ی کے مطابق تطہیر فاطمہ کی والدہ نے کہا میں چاہتی ہوں جہاں والد نہ ہو وہاں اس کی کفالت کرنے والے کا نام لکھ دیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے جائیداد تقسیم کے معاملات پیدا ہو سکتے ہیں ،ْاس معاملے کو کابینہ میں لے جائیں اور اس پر قانون سازی کی جائے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت لاوارث بچوں کے معاملے پر عبد الستار ایدھی والے معاملے پر فیصلہ کر چکی ہے۔سپریم کورٹ نے تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کا معاملہ کابینہ کو بھجواتے ہوئے قانون سازی کی ہدایت کر دی۔