فاٹا ٹربیونل غیر فعال ، ڈاکٹر شکیل کی درخواست سماعت سے محروم ہو گئی

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے پر ملنے والی سزا کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ فروری 13:40

فاٹا ٹربیونل غیر فعال ، ڈاکٹر شکیل کی درخواست سماعت سے محروم ہو گئی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 فروری 2019ء) : وفاق کے زیر انتطام قبائلی علاقہ (فاٹا) کے ٹربیونل کے 8 ماہ سے غیر فعال ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی درخواست سماعت سے محروم ہو گئی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم سے تعلق ہونے پر ملنے والی سزا کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔ تفصیلات کے مطابق فاٹا انٹرم گورننس ریگولیشن (ایف آئی جی آر) 2018ء کے اعلان کے بعد غیر فعال ہونے والے ٹربیونل کے حکام کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت 4 اپریل کے لیے مقرر کردی گئی ہے۔

ڈاکٹر شکیل کے وکیل قمر ندیم آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ 3 رکنی ٹربیونل جو فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کی تیسری اور آخری عدالت تھی، کو غیر فعال کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے کارروائی نہیں ہورہی۔

(جاری ہے)

اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل کے مرکزی وکیل عبد اللطیف آفریدی سے مشاورت کے بعد درخواست کو پشاور ہائی کورٹ میں دائر کیا جائے گا کیونکہ 25 ویں آئینی ترمیم جس میں قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا تھا، کے بعد فاٹا ٹربیونل کے دوبارہ بحال ہونے کی کوئی اُمید نظر نہیں آرہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 2 ماہ سے حکومت نے ڈاکٹر شکیل کے اہل خانہ کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی ۔ یاد رہے کہ فاٹا ٹربیونل سانج مرجان خان کی قیادت میں رکن حسین زادہ خان اور عاطف نظیر پر مشتمل ہے۔ 28 مئی 2018ء کو سابق صدر ممنون حسین نے ایف سی آر کے خاتمہ کرتے ہوئے ایف آئی جی آر کا اعلان کیا تھا۔ تاہم نئے قانون میں ٹربیونل کا کوئی ذکر نہیں تھا اور نہ ہی غیر فعال ٹربیونل میں زیر سماعت کیسز کے مستقبل کا کوئی ذکر تھا۔ اُس وقت سے اب تک ٹربیونل غیر فعال ہے اور اپنی قسمت کے فیصلے کے لیے حکومتی نوٹیفکیشن کے انتظار میں ہے۔ ٹربیونل کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے ہی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف درخواست بھی سماعت سے تاحال محروم ہے۔