علیم خان نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا ہے

علیم خان نے وزارت سنبھالتے ہی کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس آیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات فروری 00:16

علیم خان نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا ہے
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 فروری2019ء) علیم خان نے وزارت سنبھالتے ہی کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس آیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے اور آج انہوں نے اپنے الفاظ کا بھرم رکھتے ہوئے پاکستان کے سیاسی کلچر میں شاندار روایت کا بیج بویا ہے۔تفصیلات کے مطابق نیب لاہور سینئر وزیر پنجاب علیم خان کے خلاف بیرون ملک جائیداد، آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی کے حوالے سے تفتیش کررہا ہے، وہ آخری مرتبہ 8 اگست کو نیب کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد انہیں ایک سوالنامہ دیا گیا اور 6 فروری کو طلب کیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں علیم خان چوتھی بار پیش کرنے کے لئے پونے گیارہ بجے کے قریب ٹھوکرنیاز بیگ پر موجود نیب کے دفتر پہنچے جہاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج جس حوالے سے طلب کیا گیا اس پر واپسی پر بات کروں گا۔

(جاری ہے)

نیب کے دفتر سے عبدالعلیم خان کا اسٹاف اکیلے روانہ ہوا اور سینئر وزیر نیب کے دفتر سے باہر نہیں آئے۔نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ان سے مختلف سوالات کیے گئے جبکہ 2گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تحقیقات میں وہ نیب حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

گرفتاری کے فوری بعد علیم خان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ۔علیم خان نے مستعفی ہو کر ایسی شاندار سیاسی روایت کا بیج بویا جس کا تصور پاکستانی سیاسی کلچر میں نہیں تھا ۔انہوں نے وزارت سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر ہوا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے ،انہوں نےنے یہ بات اجمل جامی کے پروگرام میں کہی جنہوں نے اس بات کو 4 ستمبر کوہی ٹوئیٹ کیا ۔

آج علیم خان نے جو کہا وہ کر دکھایا۔
حالانکہ پاکستانی سیاست میں کرسی کے ساتھ چمٹے رہنے کی خواہش ہر قسم کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیتی ہے اور ہمارے پاس ماضی قریب میں ہی ایسی مثالیں موجود ہیں۔دوسری جانب صوبائی کابینہ میں سینئیر صوبائی وزیر کی نشست خالی ہو چکی ہے۔ تحریک انصاف میں سینئر وزارت اور بلدیات کے حصول کے لیے کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔بشارت راجہ، سبطین خان اور محمود الرشید پنجاب کے سینئر وزیر بننے کی خواہش رکھتے ہیں تاہم سینئیر وزیر کا عہدہ کسے ملے گا اس بات کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔